#Do_not_copy_paste_without_my_permission
کہف
بقلم_رابعہ_خان
آخری_قسط کا بقیہ حصہ
سلویٰ نے کھانے کے برتن سمیٹ کر سنک میں جمع کیۓ اور پھر واپس پلٹ آٸیں۔ کسی نے بھی ٹھیک سے کھانا نہیں کھایا تھا لیکن شکر تھا کہ وہ اس کے اصرار کرنے پر کھانے کے لیۓ ٹھہر گۓ تھے۔
”رابیل کو کچھ دنوں کے لیۓ میرے پاس ہی چھوڑ جاٸیں بھاٸ۔“
انہوں نے وقار کی جانب دیکھ کر اتنی آس سے پوچھا تھا کہ وہ اثبات میں سر ہلاۓ بنا رہ ہی نہ سکے۔
”لیکن وہ یہاں کیسے رہے گی۔۔؟ تم سارا کام اکیلی کیسے کروگی سلویٰ“
رامین نے فکر مندی سے پوچھا تو وہ مسکراٸیں۔ اس سے پہلی ہی ملاقات میں اس قدر انسیت ہوگٸ تھی کہ وہ خود بھی حیران رہ گٸیں۔ سلویٰ بالکل حبیبہ کا پرتُو تھیں۔۔ نرم، خوبصورت اور ٹھہری ہوٸ۔۔
”ٹھیک ہے۔۔ اور ویسے بھی اس کے پیروں میں زخم آۓ ہیں۔ زیادہ چل پھر نہیں سکے گی کچھ دنوں تک وہ۔ اچھا ہے وہ تمہارے پاس ہی رہ لے۔۔ کوٸ مسٸلہ نہیں لیکن وہ۔۔ وہ خود یہاں رہنا چاہتی ہے۔۔؟ پوچھا تم نے اس سے۔۔؟“
عابد کے خاموشی سے کھڑے رہنے پر وقار نے ہی بات آگے بڑھاٸ تھی۔ سلویٰ نے سر جلدی سے اثبات میں ہلایا تھا۔
”جی میں نے پوچھا ہے اس سے۔۔ اسے کوٸ اعتراض نہیں۔۔ لیکن اگر عابد بھاٸ صاحب کو کوٸ اعتراض ہے تو کوٸ با۔۔“
”نہیں۔۔ مجھے کوٸ اعتراض نہیں۔۔ اچھا ہے وہ کچھ دن یہاں رہے گی تو بار بار وہ باتیں یاد کر کے پریشان نہیں ہوگی۔۔ رہ لے بھلے وہ یہاں۔۔ مجھے کوٸ اعتراض نہیں۔۔“
وہ کہہ کر باہر کی جانب بڑھے تو رامین نے بھی مسکرا کر سلویٰ کو گلے لگایا۔ پھر آگے بڑھ گٸیں۔ اب ردا اور شزا اس سے بغل گیر ہورہی تھیں۔ سب سے آخر میں وہ وقار کے ساتھ دروازے تک آٸیں۔ سب کو خدا حافظ کہہ کر کے وہ واپس پلٹیں۔ کمرے کا دروازہ کھول کر دیکھا۔ رابیل سو رہی تھی۔ اچھا تھا وہ زیادہ سے زیادہ آرام کرتی۔ آہستہ سے دروازہ بند کر کے وہ واپس مڑیں اور کچن کی جانب چلی آٸیں۔ جلدی جلدی برتن دھو کر، کچن صاف کیا اور پھر قریباً آدھے گھنٹے بعد اب وہ لاٶنج میں جاۓ نماز بچھاتیں عشاء کی نماز پڑھنے لگی تھیں۔ ایک پل کو فکرمند سی نگاہیں گھڑی کی جانب پھیریں۔
ساڑھے دس بج رہے تھے۔ جانے وہ کہاں تھا۔۔؟ ابھی تک آیا کیوں نہیں تھا۔ اب تو انہیں بھی پریشانی ہورہی تھی۔ پھر ذہن جھٹک کر نیت باندھی۔۔ فرض پڑھنے کے بعد وہ سنتوں کے رکوع ہی میں جھکی تھیں کہ یکلخت دروازہ کھلنے کی آواز آٸ۔ پھر کسی کے قدموں کی بھاری چاپ۔۔ انہیں اس کے انداز کی پہچان تھی۔ وہ آ کر آہستہ سے صوفے پر بیٹھا۔۔ یونہی گردن گھما کر گھڑی کی جانب دیکھا تھا۔۔
اسی اثناء میں انہوں نے سلام پھیر کر سکون سے چہرہ اس کی طرف موڑا۔ وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکاۓ، آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔ ان کی نگاہ اس کے زخمی ہاتھوں پر پڑی۔ پھر وہ سرہلاتی اٹھیں۔ فرسٹ ایڈ باکس ساتھ لیتی اس کے برابر آ بیٹھیں۔ ان کے بیٹھنے پر اس نے چونک کر آنکھیں کھولی تھیں۔
”جب زخمی ہوتے ہیں ناں تو، زخم پر مرہم رکھنے کا بھی سامان کرتے ہیں۔۔“
انہوں نے اس کا ہاتھ لے کر زخم صاف کرنا چاہا تو اس نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔ سلویٰ نے لمحے بھر کو حیرت سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
”میں ٹھیک ہوں۔۔“
”مجھے پتا ہے تم ٹھیک ہو۔ تم معاذ ہو۔۔ تمہیں کیسے کچھ ہوسکتا ہے۔۔؟“
انہوں نے ایک بار پھر سے اس کا ہاتھ لینے کے ہاتھ بڑھایا تو اس نے گہرا سانس لے کر اب کہ ہاتھ بالکل پیچھے کرلیا تھا۔
”خود کرلونگا میں۔۔ بس آپ کو دیکھنے آیا تھا۔ وہ کیسی تھی۔۔؟“
اس نے براہ راست سلویٰ کی جانب دیکھنے کے بجاۓ، نگاہیں سامنے جماۓ ہی پوچھا تھا۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا کر سمجھتے ہوۓ، فرسٹ ایڈ باکس بند کیا۔ پھر آگے بڑھ کر اسے درمیانے ٹیبل پر رکھا۔
”ٹھیک ہے وہ۔۔“
”زخم کافی گہرے آۓ تھے اسے۔۔“
اس نے کان کی لو کھجا کر لہجہ حتی الامکان سرسری رکھا تھا۔ وہ اس کے اس انداز پر مسکراٸ تھیں۔
”تمہیں اگر اس کے زخموں کی پرواہ ہوتی تو ضرور اسے دیکھنے ایک دفعہ اس پورے دن میں آتے لیکن تم تو غاٸب رہے۔۔“
ان کی چوٹ پر اس نے تیزی سے گردن گھما کر انہیں دیکھا تھا۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔ بے حد سنجیدہ نگاہوں سے۔۔
”مجھے کچھ کام تھا۔۔“
”کام رابیل سے زیادہ ضروری تھا۔۔؟“
”تو کیا چھوڑدیتا ان کو۔۔؟“
یکدم ہی اس کی آواز بلند ہوٸ تھی۔ سلویٰ نے بے ساختہ پلٹ کر کمرے کے بند دروازے کی جانب دیکھا تو وہ بری طرح چونکا۔ نگاہیں بند دروازے پر پھسلیں۔۔ ساکت پتلیوں میں جنبش ہوٸ۔۔ اگلے ہی پل اب وہ سلویٰ کو دیکھ رہا تھا۔
”کیا کوٸ ہے کمرے میں۔۔؟“
”رابیل سو رہی ہے۔۔“
اور وہ بے ساختہ ہی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ بے یقین نگاہوں سے سلویٰ کی جانب دیکھا۔
”وہ۔۔ وہ گھر نہیں گٸ اپنے۔۔؟“
اس کے حیران ہونے پر بھی سلویٰ سکون سے بیٹھی رہی تھیں۔ پھر گہرا سانس لیا۔۔ گردن اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
”نہیں۔۔ میں نے اسے یہیں روک لیا۔ اس کے پیروں میں کافی زخم آۓ ہیں۔ زیادہ چلنے پھرنے سے تکلیف ہوگی۔ اور میں بھی چاہتی تھی کہ کچھ دن وہ میرے پاس رک جاۓ۔۔“
مزے سے کہہ کر اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ یکلخت ہی بے چین ہوا تھا۔ اس نے سارے راستے خود کو راضی کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ رابیل سے ملنے ضرور جاۓ گا۔۔ لیکن کچھ تھا۔۔ کچھ تھا جو آڑے آرہا تھا۔۔ گریز۔۔ گزرا واقعہ۔۔ یا وقت پر اس کے لیۓ نہ پہنچ پانا۔۔ پتا نہیں ان میں سے کونسی وجہ غالب تھی۔۔ لیکن اس کا سامنہ کرنا مشکل ہورہا تھا اس کے لیۓ۔ گہرا سانس لے کر اس نے سلویٰ کی جانب دیکھا تھا۔۔
”کیا ہوا۔۔؟ بہت مضبوط ہو ناں تم تو۔۔ کسی کی پرواہ نہیں۔۔ بھاڑ میں جاٸیں سب۔۔تو پھر۔۔ جاٶ۔۔ چلے جاٶ۔ وہ رہا دروازہ۔ رابیل سے مت ملو۔ لگتی ہی کیا ہے ویسے بھی وہ تمہاری۔۔ تمہارے لیۓ تو، تمہاری دشمنیاں زیادہ اہم ہیں۔۔ باقی سب تو ویسے بھی گھاس چرنے آۓ ہیں تمہاری زندگی میں۔۔“
معصومیت سے ٹھوڑی تلے ہاتھ رکھ کر کہا تو اس نے آنکھیں پوری کھول کر ان کے ایسے انداز کو دیکھا۔
”بند کردو اب خود کو ہر وقت فولاد ظاہر کرنا۔ جب ٹھیک نہیں ہو تو، کہو کہ تم ٹھیک نہیں ہو۔ جب وہ اچھی لگتی ہے تو کہو کہ وہ اچھی لگتی ہے۔ جب ہاتھ پر زخم آنے سے تکلیف ہوتی ہے تو کہو کہ تکلیف ہوتی ہے۔ ایک بات میری ہمیشہ یاد رکھنا شعراوی۔“
وہ اٹھ کھڑی ہوٸ تھیں۔ عین اس کے مقابل۔۔
”یہ دنیا اسی بات پر یقین کرتی ہے، جس پر آپ اسے یقین دلاتے ہو۔ آپ خود کو حیوان ظاہر کروگے تو یہ آپ کو حیوان تسلیم کرے گی۔ آپ خود کو فولاد ظاہر کروگے تو یہ اپنا سارا بوجھ آپ پر ڈال کر کمر توڑ دیگی آپکی۔ آپ اسے بتاٶ گے کہ آپ اچھے ہو، تو یہ آپکی اچھاٸ کا فاٸدہ بڑی کمینگی سے اٹھاۓ گی۔۔ اسی لیۓ۔۔ خود کو وہ ظاہر کرنا بند کرو جو تم نہیں ہو۔ انسان کا ظاہر و باطن برابر ہوجاۓ تو بہت سی آزماٸش ویسے ہی سمٹ جاتی ہے۔ بیک وقت اتنے بوجھ کے ساتھ رہنا بند کرو اور اگر ہمت ہے تو جاٶ۔۔ چلے جاٶ اسے بغیر دیکھے۔۔“
ایک آخرہ نگاہ اس پر ڈالی اور پھر بچھے جاۓ نماز کی جانب چلی آٸیں۔ وہ تو اپنی جگہ ہی ساکت ہوگیا تھا۔ سلویٰ کے الفاظ نے اس کے سامنے چھاٸ دھند ہاتھ سے صاف کردی تھی۔ اور اب وہ اپنے نفس کے آٸینے میں خود کو بہت وضاحت سے دیکھ رہا تھا۔ پھر ایک نگاہ اٹھا کر اس بند دروازے پر ڈالی۔ کیا وہ اسے دیکھے بغیر جا سکتا تھا۔۔؟ کیا واقعی ۔
اس نے بے حد آہستگی سے کمرے کا دروازہ کھولا تھا۔ پھر بنا چاپ پیدا کیۓ اندر چلا آیا۔ جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے، اب وہ اس کے بیڈ کے برابر میں کھڑا، اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ سو رہی تھی۔ چہرے پر خشک آنسوٶں کے نشان اب تک ثبت تھے۔ کتھٸ بال، آدھے تکیۓ پر پھیلے تھے اور کچھ اس کے چہرے پر ۔۔ اس نے جیکٹ کی جیب میں اڑسی مٹھی بند کی۔ ابھی اس کے چہرے کو بالوں سے آزاد کرنے کا مطلب تھا اسے جگانا۔۔ اور وہ اس کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ پھر بیڈ کے ساتھ رکھی کرسی پر آہستہ سے بیٹھا۔ یونہی خاموش نگاہوں سے اسے دیکھے گیا۔ بار بار نگاہوں کے سامنے اس کا وہ بے حجاب، بکھرا سا حلیہ سامنے آتا تھا۔ تکلیف سوا ہوتی تھی۔ اس کا ارتکاز تھا یا کیا۔۔ کہ وہ گہری سی نیند میں بھی کسمساٸ تھی۔۔ اس نے احتیاط سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا۔۔
رابیل نے بھاری پلکیں جدا کیں۔ دھندلا سا معاذ دکھاٸ دیا۔ اس نے ایک دو بار آنکھیں جھپکیں۔ اسے شاید وہ وہم لگ رہا تھا۔۔ گمان۔۔ یا شاید اس کا خیال۔۔ اس نے اسی کیفیت میں ہاتھ آگے بڑھایا تو معاذ نے بے ساختہ اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اور اس کے لمس پر اب کہ وہ پوری طرح سے بیدار ہوگٸ تھی۔
”معاذ۔۔“
اسکے لب بے آواز ہلے تھے۔ اس نے ان بے آواز ہلتے لبوں کی جانب دیکھا۔ پھر نگاہیں اس کے چہرے تک گٸیں۔ ہلکا سا مسکرایا۔۔ وہ نہیں مسکرا سکی۔ اس کی باٸیں آنکھ سے آنسو لڑھک کر تکیۓ میں جذب ہوا تھا۔ اور وہ اس بار خود کو روک نہیں سکا۔ جیکٹ کی جیب سے ہاتھ نکالتے ہوۓ ہلکا سا جھکا۔ اس کے پھسلتے آنسو کو انگوٹھے سے خشک کیا۔ لمحے بھر ہی میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بے حد قریب آگۓ تھے۔ رابیل سانس روکے دیکھ رہی تھی اسے۔۔ ہاں۔۔ اسے سانسیں روکنا آتا تھا۔۔
”کیسی ہو۔۔؟“
بے حد آہستگی سے پوچھا تھا اس نے۔ رابیل کو اپنی ہر تکلیف بھولنے لگی۔ تاریک کہف، لوگوں کی چبھتی باتیں، پچھلے واقعے کی ذلت۔۔ ہر شے جیسے اس کے سامنے دھول بنتی جارہی تھی۔
”میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔“
اس نے خود کو کہتے سنا۔ وہ ہولے سے مسکرایا۔ پھر اسکے سر کے نیچے ہاتھ دے کر اسے اٹھایا اور خود کے کندھے سے اسکا سر ٹکادیا۔ اب وہ اس کے ساتھ بیڈ پر بیٹھا، اسکا سر اپنے کندھے سے ٹکاۓ تھپک رہا تھا۔ وہ اس خنک سی دنیا میں بے حد نرم گرم سی آغوش تھی۔ رابیل کی آغوش۔۔
”مجھے بہت زخم آۓ ہیں۔۔“
اس نے بچوں کی طرح کہہ کر بھیگا چہرہ اٹھایا تھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
”بہت زخم دے کر آیا ہوں اسے۔۔ جتنے تمہیں لگے ہیں، اس سے زیادہ۔۔“
اس نے رابیل کے تر چہرے کو اپنے ہاتھوں سے صاف کیا تو اس نے بے ساختہ ہی اپنے چہرے پر رکھے اس کے ہاتھوں کو نگاہوں کے سامنے کیا۔ پھٹی جلد اور سخت ہاتھ۔۔ اس نے اسکی ہتھیلی پر اپنے نرم سے ہاتھ پھیرے تھے۔
”میں نے منع کیا تھا ناں کہ خود کو کوٸ زخم لگوا کر مت آنا۔ پھر بھی باز نہیں آۓ تم۔۔“
وہ اس کے زخمی ہاتھوں کو اپنے نرم ہاتھوں سے چھوتی شکوہ کررہی تھی۔ معاذ ہلکا سا مسکرایا۔۔ پھر اس کے جھکے چہرے کو اٹھایا۔ سرخ دہکتی ناک اور حلق میں جمع ہوتے بہت سے آنسو لیۓ، وہ بمشکل خود کو رونے سے روکے ہوۓ تھی۔
”جو تمہیں زخم دے گا وہ زخم کھاۓ گا۔ پھر چاہے اس سب میں معاذ کی جان چلی جاۓ۔۔ کوٸ فرق نہیں پڑتا۔۔“
مضبوطی سے اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہتا وہ یکدم ہی اسے بہت سا مان دے گیا تھا۔ رابیل کی آنکھ سے آنسو ٹوٹا تھا۔
”بہت ظالم ہو تم۔ ایسی باتیں کرتے ہوۓ دل نہیں کانپتا تمہارا۔۔؟“
اس کے سوال پر اس نے ہولے سے نفی میں سر ہلا کر اس کے رخساروں پر لڑھکتے آنسو، اپنی جیکٹ کی آستین سے صاف کیۓ۔ وہ کوٸ بھی پس و پیش کیۓ بغیر بیٹھی رہی۔ پھر نم پلکیں ایک دوسرے سے جدا کر کے اسے دیکھا۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
معاذ کی ناک پر ہلکے سے کٹ کی صورت ایک زخم تھا اور ہونٹ کا کنارہ بھی ہلکا سا پھٹا ہوا تھا۔
”تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ارحم کی کال کے بارے میں۔؟ بھروسہ نہیں تھا تمہیں مجھ پر۔۔؟“
اس کی پیشانی پر نہ ہی کسی قسم کے بل تھے اور نہ ہی لہجے میں طیش تھا۔ وہ بے حد آرام دہ سے انداز میں بات کررہا تھا۔ رابیل نے اس کے سوال پر بہت سا تھوک نگلا تھا۔ پھر آنکھیں رگڑیں۔۔
”تم ڈانٹو گے تو نہیں۔۔؟“
اسکے پوچھنے پر معاذ کا ارتکاز کچھ اور نرم ہوچلا تھا۔
”نہیں ڈانٹونگا۔۔ بتاٶ۔۔ مجھے کیوں آگاہ نہیں کیا تھا۔۔؟“
”میں اس سے پہلے خود بات کرنا چاہتی تھی۔ مجھے لگا تھا کہ وہ بات سے مان جاۓ گا۔ میں جھگڑا، فساد نہیں چاہتی تھی معاذ اسی لیۓ میں شزا کو لے کر اس کے بلانے پر وہاں چلی گٸ۔ اور میں کسی اور جگہ جاتی بھی نہیں لیکن اس نے ہمیں اپنے گھر بلایا تھا۔ ہمیں لگا کہ گھر سے زیادہ محفوظ جگہ کوٸ نہیں ہوسکتی۔ اسی لیۓ ہم چلے گۓ۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ یہ سب پلین کر کے بیٹھا ہوا ہوگا۔۔ مجھ سے غلطی ہوگٸ۔۔ مجھے وہاں نہیں جانا چاہیۓ تھا۔۔ مجھے تمہیں یا پھر بابا کو بتانا چاہیۓ تھا۔۔“
وہ کہہ کر خاموش ہوٸ تو معاذ نے گہرا سانس لیا۔ پھر اسکے جھکے سر کو دیکھا۔ وہ بار بار لب کاٹتی، انگلیاں باہم پھنسا کر کھول رہی تھی۔ کیا وہ اسے ڈانٹ سکتا تھا۔۔؟ اوں ہوں۔۔
”اچھا اب ادھر دیکھو۔۔“
اس کے نرمی سے کہنے پر اس نے جھکا سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ سرمٸ آنکھیں اس سمے بے حد نرم لگ رہی تھیں۔ نرم اور خوبصورت۔۔
”نا محرم ہر حال میں نامحرم ہوتا ہے رابیل۔ وہ چاہے اپنے گھر میں بلاۓ یا لوگوں سے بھرے مجمعے میں۔ آپ نے وہاں نہیں جانا۔ آپ نے اس سے نہیں ملنا۔ اگر ملنا بھی ہے تو بھاٸ، شوہر یا بابا کو ساتھ لے کر جانا ہے۔ اس سے بات، ان کے سامنے کرنی ہے۔ وہ اگر ان کے سامنے بات نہیں کرنا چاہتا تو بھاڑ میں جاۓ۔۔ آپ کو پلٹ کر اس سے ہمدردی جتانے کی کوٸ ضرورت نہیں ہے۔ پھر چاہے وہ نمازی پرہیزگار انسان ہو یا گناہ گار۔۔ وہ ہر حال میں مرد ہے۔۔ اور مرد کی کمینگی کے بارے میں عورت کو جتنا علم ہوتا ہے، اس سے کہیں زیادہ وہ لا علم ہوتی ہے۔ میں ایک مرد ہوں لیکن میں اس کی حقیقت بتا رہا ہوں تمہیں۔ مردوں سے اکیلے یا پھر نا محرم کے بغیر ملنے میں، اس مرد کا نہیں عورت کا نقصان ہے۔ اپنے آپ کو ہر نقصان سے بچاٶ ہوں۔۔“
اس نے بہت سخت باتیں خلاف معمول بہت نرم لہجے میں کہی تھیں۔ نہیں تو اس کا انداز اکثر دو ٹوک، سپاٹ اور سرد ہوا کرتا تھا۔ رابیل نے سمجھ کر جلدی سے سر اثبات میں ہلایا تھا۔ پھر اسے دیکھا۔
”میں آٸندہ کبھی بھی ایسے نہیں کرونگی۔۔“
”اچھی بچی ہو تم۔ مجھے پتا ہے تم آٸندہ کبھی ایسے نہیں کروگی۔“
”تم نے اپنے زخموں پر پٹی کیوں نہیں باندھی۔۔؟“
اس نے اس کا ہاتھ دیکھتے ہوۓ کہا تو معاذ نے بیزار ہو کر ماتھے پر گرتے بال پیچھے کیۓ۔ پیشانی واضح ہونے پر رابیل نے دیکھا کہ وہاں بھی ابرو کے پاس بہت سے کٹ لگے ہوۓ تھے۔ یا اللہ ایک تو یہ لڑکا۔۔
”میں ٹھیک ہوں ایسے ہی۔۔“
”ایسے ہی کیسے ٹھیک ہو تم۔۔! اتنے زخم آۓ ہیں۔۔ اتنے کٹ لگے ہوۓ ہیں۔ رکو میں لاتی ہوں دواٸ۔۔“
اور وہ جو یکدم ہی بیڈ سے اپنے پیر نیچے اتارنے لگی تھی، معاذ نے اس کے پیر پکڑ کر دوبارہ بیڈ پر رکھے۔
”بیٹھی رہو یہیں۔ تمہارے پیر زخمی ہیں ابھی، زیادہ چلنا پھرنا ٹھیک نہیں ہےتمہارے لیۓ۔۔“
”لیکن یہ زخم۔۔“
”میں نے کہا ناں کہ ٹھیک ہوں میں۔ جسمانی زخموں کی عادت ہوتی ہے ہم جیسے لوگوں کو۔ بہت سے کٹ بیک وقت جسم پر لگے ہونے کے بعد بھی انتہاٸ نارمل زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ہم۔ کچھ فرق نہیں پڑتا اس سے۔ فرق ان زخموں سے پڑتا ہے جو نظر نہیں آتے اور پھر بھی تکلیف دیتے ہیں۔ یہ زخم بھر جاتے ہیں۔ ان کی فکر مت کیا کرو۔۔“
اس نے آرام سے کہہ کر اسے دیکھا تھا۔ ہاں اب وہ کچھ کچھ پہلے جیسا معاذ لگ رہا تھا۔
”زخموں کی عادت کیسے ہوسکتی ہے کسی کو۔۔“
”دیکھو ناں مجھے۔ سامنے ہی تو بیٹھا ہوں تمہارے۔۔“
مسکرا کر ہلکا پھلکا سا کہا لیکن رابیل نہیں مسکرا سکی۔ اسے پتا نہیں کیوں اس کی یہ بات ہمیشہ تکلیف دیا کرتی تھی۔ اپنے زخموں کو نظر انداز کر کے اندیکھے زخموں کی تکلیف برداشت کرنے والی بات۔۔
”ایسا نہیں ہوتا معاذ۔۔“
اس کی سرمٸ آنکھوں کو دیکھتی رابیل کی نگاہیں جانے کیوں نم ہوٸ تھیں۔ اس نے نا سمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔
”اچھا۔۔ پھر کیسا ہوتا ہے۔۔؟“
اس نے مسکرا کر ابرو اچکاتے ہوۓ سوال کیا تھا۔ وہ اس پر کوٸ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا، وہ پہلے ہی ایک حادثے کا شکار ہوتے ہوتے بچی تھی۔ وہ اس سے کوٸ بھاری مکالمے نہیں کرنا چاہتا تھا۔
”زخم جسمانی ہوں یا روحانی، تکلیف ایک سی ہوتی ہے۔ بس جس کا گھاٶ زیادہ گہرا ہوتا ہے اس کی اذیت غالب آجاتی ہے۔ تمہیں جسمانی زخم اسی لیۓ زیادہ تکلیف نہیں دیا کرتے، کیونکہ تم تو روح پر لگے گہرے زخموں ہی سے اپنے وجود کو اب تک آزاد نہیں کرپاۓ ہو۔“
اسکی بات پر وہ چونکا تھا۔ ہمیشہ کی طرح۔۔ یوں لگتا تھا کہ وہ کوٸ چھوٹی بچی ہے۔ اس سے بات چھپاٶ گے یا پھر گول کر جاٶ گے تو وہ بھی اس پر توجہ نہیں دے گی لیکن ایسا۔۔ نہیں ۔۔ ہوتا۔۔ تھا۔ وہ غیر معمولی طور پر ذہین تھی۔ جن باتوں کو اس نے اس سے چھپایا تھا، رابیل نے ہر وہ بات اس کے منہ پر کہہ کر کے اسے حیران کیا تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے وہ ابھی حیران ہورہا تھا۔ پھر خجل ہو کر سر کھجایا۔۔
”چھوٹی سی ہو۔۔ اتنی بڑی باتیں مت کیا کرو۔۔“
”تم زخمی ہو ناں۔۔؟“
اور اب اسے پتا تھا کہ وہ صرف جسمانی زخموں کی بات نہیں کررہی تھی۔ کوٸ اس لڑکی کو بتاۓ کہ وہ ایسی باتیں کر کے معاذ کو خوفزدہ کیا کرتی تھی۔ اس نے گہرا سانس لے کر چہرہ اٹھایا۔۔ پھر تھکن زدہ سا مسکرادیا۔۔
”ہاں۔۔“
”بتاتے کیوں نہیں ہو پھر۔۔؟“
”کیا بتاٶں۔۔؟“
”یہی کہ تم تکلیف میں ہو۔“
اس کے جواب پر وہ چند پل ویسے ہی اسے دیکھتا رہا تھا۔ کہف کی دیواروں کے درمیان اتنے عرصے سے قید رہنے کے بعد، وہ اسے جاننے لگی تھی۔
”اتنی مشکل باتیں مت سمجھو۔۔ بھول جاٶ۔“
”تم رونا چاہتے ہو ناں۔۔؟“
اس کے گلابی ارتکاز کو دیکھتے وہ بہت دھیرے سے بولی تھی۔ معاذ نے آنکھیں لمحے بھر کو موند کر کھولیں۔
”رونے سے کیا ہوگا۔۔؟“
”تمہارا دل ہلکا ہوجاۓ گا۔ تم پر سے برسوں کا بوجھ اتر جاۓ گا۔ تم رو لو۔۔ میں تمہارا ہر آنسو صاف کرلونگی۔ میرے سامنے اپنے اصل کے ساتھ آنے سے مت گھبرایا کرو۔“
اس کے دل پر جما سالوں کا بوجھ اسکی باتوں سے پگھل کر گرنے لگا تھا۔ آنکھیں جانے کیوں بھیگنے لگی تھیں۔
”میں اسے مارنے گیا تھا۔“
اس نے گہرا سانس لے کر کہنا شروع کیا۔ ہاں۔۔ وہ اب اس بوجھ سے تھک گیا تھا۔
”میں اسے موت کے گھاٹ اتارنے گیا تھا۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں اس کی جڑ ہی کاٹ کر پھینک دونگا۔ میں۔۔ میں نے طے کرلیا تھا کہ اس سب کے بعد میں تمہیں آزاد کردونگا۔ تم میرے جیسے آدمی کو ڈیزور نہیں کرتی لیکن۔۔“
اس نے کانپتی سانس اندر کو کھینچی۔ پھر گلابی نگاہیں اٹھا کر رابیل کو دیکھا۔ وہ بمشکل سانس روکے اپنے آنسوٶں پر ضبط کیۓ اسے سن رہی تھی۔
”لیکن میں اسے نہیں مار سکا۔۔“
اس نے دونوں ہاتھ چہرے پر پھیر کر، شکستہ سا تاثر زاٸل کرنے کی کوشش کی تھی۔
”میرے ہاتھ کانپ گۓ تھے۔ میں ایک جان لینے کے درپے تھا لیکن مجھے حبیبہ اور رابیل کبھی بھی انسان سے حیوان بننے نہیں دیتیں۔ ماں کے آخری لمس نے مجھے ہمیشہ کچھ بھی انتہاٸ کرنے سے باز رکھا اور تمہارے آنسوٶں نے ایک بار پھر سے مجھے پیچھے دھکیل دیا۔ میں اسے قتل نہیں کرسکا۔ میں واپس آگیا۔۔“
اس نے جلتی آنکھیں ہتھیلیوں سے رگڑی تھیں۔ رابیل نے ہاتھ آگے بڑھا کر، اسے خود کے کندھے سے لگایا تھا۔ پھر دوسرا ہاتھ بھی اس کے گرد لپیٹا۔ اس کی اپنی آنکھیں بھی بے اختیار ہو کر برسنے لگی تھیں۔ اس کی تکلیف اپنی تکلیف سے زیادہ اذیت دیا کرتی تھی۔
”تم مضبوط ہو۔۔ تم نے بہت کچھ سہا ہے۔۔ تمہارا بھی آنسوٶں پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی عام انسان کا۔۔“
گیلی سانس اندر کو کھینچ کر اس نے معاذ کی پیٹھ تھپکتے ہوۓ کہا تھا۔ پھر وہ آہستہ سے اس سے الگ ہوا۔ بازو سے آنکھیں رگڑ کر صاف کیں۔ مسکرا کر اسے دیکھا۔۔ اب کہ اس کی مسکراہٹ دھلی دھلاٸ سی تھی۔۔ اجلی۔۔ کسی بھی قسم کے بوجھل پن سے پاک۔۔ رابیل بھی اسے دیکھ کر مسکراٸ تھی۔
”پہلے میں بابا کے فیصلے سے متفق نہیں تھا لیکن اب ہوں۔۔“
اسکی بات پر اس نے ناسمجھی سے ابرو سکیڑے۔۔
”کونسے فیصلے سے۔۔؟“
”رخصتی والے فیصلے سے۔ مجھے یہی مسٸلہ تھا کہ تم ہمارے گھر میں آ کر سارے نظام کو درہم برہم کردوگی، کیونکہ کام تو کرنا آتا نہیں ہے تمہیں۔ نہ ہی گھر سنبھالنے کا کوٸ تجربہ ہے۔ اسی لیۓ میں چاہتا تھا کہ تم کچھ وقت اپنے گھر ہی رہ کر یہ سب سیکھ لو لیکن اب۔۔“
وہ مسکرایا تھا۔ رابیل کی پیشانی پر آہستہ آہستہ ناگوار لکیریں ابھرنے لگی تھیں۔
”اب میں چاہتا ہوں کہ تم ضرور ہمارے گھر آٶ۔ وہیں رہو۔۔ سب کچھ درہم برہم کردو۔۔ میں سب چیزوں کو اپنی جگہ پر دیکھ دیکھ کر اکتا چکا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اب کوٸ آ کر ہماری خاموش زندگیوں کو اپنی آکورڈ سی ہنسی سے بھر دے۔۔ اور تم سے زیادہ اچھے سے یہ کام اور کوٸ نہیں کرسکتا۔۔“
اور اب کہ رابیل کے ماتھے پر نگوار لکیروں کا پورا جال واضح ہونے لگا تھا۔
”میں اب اتنی بھی پھوہڑ نہیں ہوں۔۔“
احتجاجً کہا۔ اس نے اثبات میں سر ہلا کر اس کی تاٸید کی تھی۔
”مجھے پتا ہے کہ تم کتنی سگھڑ ہو۔۔“
”میرا مزاق اڑا رہے ہو تم۔؟“
اس نے ہاتھ باندھ کر سنجیدگی سے پوچھا تو اس نے بمشکل اپنی امڈتی ہنسی سمیٹی۔
”تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارا مزاق اڑا رہا ہوں۔۔؟“
”ہاں۔۔“
”تمہاری اصل پر کوٸ تمہارا مزاق اڑاۓ تو اسکا منہ توڑ دیا کرو۔ پھر آگے والا کبھی بھی تم پر ہنس نہیں سکے گا۔“
”یہ کونسی منطق ہے۔۔؟“
اس کے سوال پر اس نے کندھے اچکاۓ تھے۔
”آزمودہ ہے۔۔ لوگ پھر آنکھیں چھپا کر ساتھ سے گزر جاتے ہیں۔۔“
اور جانے ابھی وہ اور اسے کون سے الٹے سیدھے طریقے بتانے لگا تھا کہ دروازے پر دستک ہوٸ۔ ان دونوں نے بے ساختہ دروازے کی جانب دیکھا تھا۔ سلویٰ نے کمرے کا دروازہ کھولا اور پھر اندر جھانکا۔ ان دونوں کے چہروں پر سکون بکھرا دیکھ کر وہ خود کو مسکرانے سے روک نہیں سکی تھیں۔
”مجھے پتا ہے کہ تم دونوں نے کھانا نہیں کھایا ہے۔ میں نے بھی نہیں کھایا اور اب بہت بھوک لگ رہی ہے۔ اسی لیۓ میں نے کھانا گرم کردیا ہے۔۔ کھانا پسند کریں گے آپ دونوں۔۔؟“
آنکھیں جھپکا کر پوچھا تو رابیل مسکراٸ۔ پھر اثبات میں سر ہلایا۔ معاذ کا بھی ردعمل کچھ اسی طرح کا تھا۔
”باہر آٶ گے یا پھر کھانا یہیں لگادوں۔۔؟“
”مجھے باہر جانا ہے۔۔ کمرے میں لیٹے لیٹے طبیعت بہت بوجھل ہورہی ہے میری۔“
رابیل نے اکتا کر کہا تو سلویٰ نے بے ساختہ معاذ کی جانب دیکھا۔ پھر نگاہیں اس کے پٹی بندھے پیروں تک گٸیں۔
”لیکن تمہارے پاٶں زخمی ہیں۔ باہر تک چل کر کیسے آٶگی۔۔؟“
اور اس نے برا سا منہ بنا کر گہرا سانس لیا تھا۔ معاذ نے سر ہلا کر اس کے اترے چہرے کو دیکھا پھر سلویٰ کی جانب گھوما۔
”آپ چلیں میں لاتا ہوں اسے۔۔“
”اوکے۔۔ لیکن دھیان سے۔۔“
وہ واپس پلٹیں تو اس نے اٹھ کر اسے کھڑا کیا۔ ”سسی“۔۔ زخم تازہ ہونے کے باعث یکدم ہی اس کے تلوے جلنے لگے تھے۔
”درد زیادہ ہورہا ہے۔۔؟“
اس کے فکر مندی سے پوچھنے پر اس نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
”نہیں۔۔ میں ٹھی۔۔“
لیکن وہ اسے نہیں سن رہا تھا۔ جھک کر اسے ہاتھوں میں اٹھایا تو وہ یکدم گھبرا گٸ۔ زور سے پیر جھلاۓ۔۔
”اتارو مجھے نیچے۔۔ سلویٰ باہر ہیں۔ کتنی بری بات ہے یہ۔۔ اتارو مجھے۔۔“
اس نے پیر جھلّانے کے ساتھ ہی اسے کندھے پر مکے بھی مارے تھے۔ لیکن مجال ہے جو معاذ کے کان پر جوں بھی رینگ جاتی۔
”چپ رہو۔۔“
”معاذ میں تمہیں جان سے ماردونگی۔۔ اتارو مجھے۔۔“
اس نے دانت پیس کر بے حد آہستہ آواز میں کہا تھا۔ ساتھ ساتھ ادھ کھلے دروازے کی جانب بھی دیکھا۔
”بالکل نہیں۔۔“
مزے سے سر نفی میں ہلایا تو رابیل کو رونا آنے لگا۔ یہ بدتمیز انسان۔۔ !
”شرم آتی ہے تھوڑی سی۔۔“
”نہیں۔۔ شرم تو نہیں آتی۔۔“
اور اس کے ذو معنی جملے پر جہاں وہ سرخ ہوٸ تھی وہیں خاموش بھی ہوگٸ تھی۔ اگلے ہی لمحے اب وہ اسے لیۓ لاٶنج کی جانب بڑھ رہا تھا جہاں سلویٰ کھانا لگارہی تھیں۔ ایک نظر ان دونوں پر ڈالی۔۔ پھر مسکراہٹ دباتیں، خالی ٹرے لیۓ کچن کی جانب بڑھ گٸیں۔ دونوں نالاٸقوں پر کبھی کبھی انہیں یونہی بے حد ہنسی آیا کرتی تھی۔
چھ مہینے بعد۔۔
وہ مسجد سے باہر نکل رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی رابیل بھی تھی۔ یہ رمضان کا پہلا عشرہ چل رہا تھا اور اس پہلے عشرے میں تراویح پڑھانے کا ذمہ معاذ نے اپنے سر لیا تھا۔ وہی لڑکا جو اپنا قرآن بھول گیا تھا ایک بار پھر سے مساجد میں کھڑا ہو کر نمازیں پڑھانے لگا تھا۔۔ لوگ اس کے پیچھے نمازیں پڑھنے لگے تھے۔ ان پچھلے چھ مہینوں میں اس نے دن رات ایک کر کے قرآن کو دوبارہ اپنے اندر زندہ کیا تھا اور اللہ نے اس کی اتنی محنت کا پھل اسے یہ دیا تھا کہ وہ حبیبہ کا خواب پورا کرنے کے قابل ہوگیا تھا۔ اس نے حبیبہ کی دیرینہ خواہش کو عملی جامہ پہنا دیا تھا۔ ہلکا دل اور ہلکے کندھے لیۓ وہ کافی عرصے بعد جینے لگا تھا۔۔
اس کی ایک بڑی وجہ رابیل بھی تھی۔ وہی تو تھی جس نے اس کے ساتھ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس قرآن کو دہرایا تھا۔ جس نے اس کے ساتھ ہی وہ کہف دیکھا تھا، اس کہف کو پار کیا تھا، اس کے اندھیروں کو پگھلتے نور میں بدلا تھا۔ ہاں ایک وہی تھی۔۔ جو اس مدھم روشنی کو دوبارہ سے اجاگر کرنے کا حق رکھتی تھی۔ لوگ اب بھی اس کے حجاب پر جملے کسا کرتے تھے۔ لوگ تو اب بھی اسے اپنے لفظوں سے تکلیف دیا کرتے تھے، اس کے بہت سے رشتے داروں نے اس سے محض ایک حجاب کے باعث ملنا چھوڑ دیا تھا۔۔ لیکن وہ اب تک ثابت قدم رہی تھی۔ جو لوگ اسے اللہ کو چھوڑنے پر مجبور کریں۔۔ پھر ایسے لوگوں کی اسے واقعی ضرورت نہیں تھی۔ وہ ایسے لوگوں کی رضا کے لیۓ اللہ کو ناراض نہیں کرسکتی تھی۔۔ کیا وہ ایسا کرسکتی تھی۔۔! رہی ساتھ رہنے والی تکلیف تو وہ ہمیشہ ہی رہنی تھی۔۔ کیونکہ یہ دنیا، دنیا تھی۔ یہ دنیا جنت نہیں بن سکتی تھی۔ اس نے بھی ان ساری چبھتی باتوں کے ساتھ مسکرانا سیکھ لیا تھا۔ وہ بھی پھپھو کو، حبیبہ کی طرح معاف کر کے آگے بڑھ گٸ تھی۔ معاذ کسی کو بھی معاف نہیں کرپایا تھا۔۔ شاید اسے ابھی کچھ اور وقت درکار تھا۔۔ وہ جلدی سے معافی دینے والوں میں سے نہیں تھا۔
مسجد سے باہر نکلتے وقت وہ جھک کر اپنے تسمے باندھنے لگا تو رابیل نے اسے سر جھکا کر دیکھا۔ اس نے آج کی تراویح میں سورہ کہف شروع کی تھی۔ اور اس کی بھاری گھمبیر آواز سے رابیل کی سماعتیں اب تک دہک رہی تھیں۔ اس کی نگاہ محسوس کر کے اس نے بے ساختہ ہی سر اٹھایا تھا۔
”کیا ہوا۔۔؟ “
”سوچ رہی ہوں تم کتنا اچھا قرآن پڑھتے ہو۔۔“
اس کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔ پھر تسمے باند کر اٹھ کھڑا ہوا۔ ان کی گاڑی مسجد سے کافی دور پارک تھی۔ یہاں جگہ نہ ہونے کے باعث گاڑیاں وہیں پارک کی جاتی تھیں۔
”ماں بھی یہی کہا کرتی تھیں۔“
اس نے سیدھا ہوتے ہوۓ کہا اور پھر وہ دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ موسم دن میں گرم رہا کرتا تھا لیکن رات کے اس پہر چلتی ہوا کے باعث ٹھنڈک ہوجایا کرتی تھی۔ اس کا سیاہ عبایا بھی سرسراتی ہوا کے باعث پیچھے کی جانب اڑ رہا تھا۔
”قاری اسلام صبحی جیسی آواز ہے تمہاری۔ لہجہ بھی بالکل ویسا ہی ہے۔ عموماً ہمارے یہاں حفاظ کا لہجہ خالص عربی نہیں ہوتا لیکن تمہارا لہجہ اردو لہجے سے مختلف ہے۔۔ کیوں۔۔؟“
اس نے سیاہ حجاب کے ہالے میں دمکتا چہرہ اس کی جانب پھیرا تھا۔
”وہ اس لیۓ کہ میرے قرآن کے استاد مصر سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے انہی سے قرآن پڑھا تھا۔ ظاہر ہے پھر ان کا لہجہ تو میرے لہجے میں گھلنا ہی تھا۔۔“
”اوہ۔۔ جبھی مجھے ہمیشہ تمہارے بدلے ہوۓ لہجے کا احساس ہوتا رہتا ہے۔ میں کتنی بھی کوشش کرلوں، تمہارے جیسا نہیں پڑھ پاتی۔۔“
اس نے مسکرا کر مایوسی سے کہا تو وہ بھی مسکرایا۔ ان دونوں کے پرسکون قدم ساتھ ساتھ اٹھ رہے تھے۔ دور کہیں، چلتی ہوا کی نمی میں کسی کے آنسو بھی گھلنے لگے تھے۔
”ماں بھی یہی کہا کرتی تھیں کہ میں تم جیسا قرآن نہیں پڑھ پاتی۔ کوشش کرلوں تب بھی نہیں۔۔ لیکن جانتی ہو رابیل۔۔ مجھے ان کا قرآن پڑھنا بہت پسند تھا۔ وہ جس محبت اور خوف سے اسے پڑھا کرتی تھیں شاید میں اس کا مقابلہ کبھی نہ کرسکوں۔ اسے پڑھنے کے لیۓ لہجے سے زیادہ محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جتنی محبت ہوگی، لہجہ اتنا ہی سماعتوں میں گھلنے لگے گا۔۔“
اس کی بات پر وہ نم آنکھوں سے مسکراٸ تھی۔
”تمہیں تاٸ سب سے زیادہ کب یاد آتی ہیں معاذ۔۔؟“
اس کے اٹھتے قدم اس سوال پر ساکت ہوگۓ تھے۔ وہ بھی اس کے رکنے پر رک گٸ تھی۔ پھر اس کے پلٹ کر پیچھے دیکھنے پر وہ بھی پلٹی۔ مسجد کے دروازے پر حبیبہ کا مسکراتا سا ہیولہ دکھاٸ دے رہا تھا۔ دس سالہ معاذ کے تسمے جھک کر باندھتیں وہ اسے ساتھ ساتھ کچھ نصیحت بھی کر رہی تھیں۔ اس نے اداسی سے اس گزرے منظر کو نگاہوں میں قید کیا تھا۔۔
”جب بھی میں اس مسجد کا دروازہ پار کرتا ہوں۔ مجھے وہ بہت یاد آتی ہیں۔ جب بھی میں جھک کر اپنے جوتوں کے تسمے باندھتا ہوں، مجھے وہ بہت یاد آتی ہیں۔۔ جب بھی میں۔۔“
سامنے دھندلاتا منظر بکھرنے لگا تھا۔ دس سالہ معاذ اب حبیبہ کا ہاتھ تھامے سڑک پار کرتا مسکرا کر ان سے کوٸ بات کررہا تھا۔ اس نے مسکرا کر اس منظر کو دیکھا اور پھر پلٹ گیا۔ وہ بھی اسکے ساتھ ہی پلٹی تھی۔۔
”اور جب بھی میں سورہ کہف پڑھتا ہوں تب مجھے وہ بہت یاد آتی ہیں۔۔“
اب کہ وہ دونوں مدھم قدم اٹھاتے خاموشی سے چلنے لگے تھے۔ پیچھے فضا میں تحلیل ہوتے حبیبہ کے ہیولے نے لمحے بھر کو پلٹ کر اپنے دونوں بچوں کو دیکھا تھا۔ پھر آنکھوں میں چمکتی نمی لیۓ، مسکرا کر وہ اس دھویں کا حصہ بنتی غاٸب ہونے لگی تھیں۔
کیا ہوا جو کہانی کا وقت بدل گیا تھا۔ کیا ہوا جو وقت کا مدار اب کسی اور سمت میں سفر طے کرنے لگا تھا۔ کیا ہوا جو وہ قرآن کی جانب واپس پلٹ گیا تھا۔۔ کیا ہوا جو رابیل نے حجاب سر پر باندھ لیا تھا۔ان سب باتوں کے ساتھ۔۔ ہمیشہ کہانی کا ایک کردار رلا کر ہی چھوڑتا تھا۔ ان کی کہانی کا وہ کردار حبیبہ تھیں۔۔ کہ جن کی جگہ ان کی زندگیوں کے فریم میں اب تک خالی تھی۔۔ وہ مرگٸ تھیں۔۔ لیکن عجب تو یہ تھا کہ وہ پھر بھی زندہ تھیں۔۔ اس کہف کے اندر پناہ لینے والوں سے حسن انجام اور جنتوں کے وعدے کیۓ گۓ تھے۔۔ کیا اللہ غار والوں کو کبھی تنہا کیا کرتا تھا۔۔؟ اللہ انسان کو تاریکی کے سب سے کمزور لمحے میں بھی نہیں چھوڑتا۔۔ وہ بھلا اس کی خاطر کہف میں پناہ لینے والوں کو تنہا کیسے چھوڑ سکتا تھا۔۔ ہم سب کے گرد کھڑی، دیواریں ہمیشہ ہمیں قید کرنے کے لیۓ نہیں ہوتیں۔۔ بعض دیواریں کہف کی دیواریں ہوا کرتی ہیں۔۔ انہیں اپنے ارد گرد کھڑا کرلیا کریں۔۔ وہ انسان کو گہری جہنم میں گرنے سے بچاتی ہیں۔۔
حبیبہ کا ہیولہ پوری طرح سے فضا میں تحلیل ہوگیا تھا۔۔ معاذ اور رابیل اب تک ساتھ ساتھ چلتے اس منظر سے دور ہوتے جارہے تھے۔
اسی سیاہ رات میں، صاٸمہ کسی فٹ پاتھ پر بیٹھیں، ایک روٹی کی خاطر بھیک مانگنے پر مجبور تھیں۔ کیونکہ یہی ان کا انجام تھا۔۔ اور شاید ایک گہرے عذاب کا آغاز بھی۔۔۔!!