*ماہ ِ شوال کی رسومات وبدعات*
یکم شوال (عید کےدن) فوتگی والے گھر جانا:
بعض علاقوں میں جب کسی گھر میں فوتگی ہوتی ہے ، تو اس کی وفات کے بعدعزیز و اقارب پہلی عید و بقرعید پرمیت کے گھر پہنچنا فرض سمجھتے ہیں،اور وہا ں جاکر تعزیت کرتے ہیں ،چاہے انتقال ہوئے مہینوں گذر چکے ہوں۔
اس رسم میں کئی خرابیاں ہیں:
۱۔ تعزیت تین دن کے اندر اندر ایک مرتبہ کرنا سنت ہے ،لہذا جب ایک مرتبہ تعزیت کی جاچکی ہے،اب عید کے دن دوبارہ تعزیت کرنا سنت کے خلاف ہے ۔
۲۔ شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
۳۔عید کا دن خوشی کادن ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے مہمان نوازی کا دن ہے ،اس دن غم کو تازہ کرکے عید کی خوشی کوغم میں تبدیل کرنا انتہائی مکروہ اور خلاف ِ شریعت رسم ہے۔
لہذا اس بری رسم اور بدعت سیئہ سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔(۱۹)
2۔فوتگی والے گھر میں سوگ کا سماں :
بعض علاقوں میں کسی کے انتقال کے بعد اس کی پہلی عید پر فوتگی والے گھرمیں سوگ کا سماں ہوتا ہے، اس گھر کے افراد عید کے دن خوشی منانے،اچھےکپڑےپہننےکوبرا سمجھتے ہیں۔یہ محض خود ساختہ رسم ہے،کیونکہ شرعی اعتبار سےسوگ کی تین دن تک اجازت ہے ،البتہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہو ،اس کے چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا واجب ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی عورت کے لئے ،جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو، حلال نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے۔
(صحیح مسلم، حدیث نمبر:1491)
حضرت زینب بنت ابی سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جب ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو(ان کے والد)حضرت ابوسفیان کی وفات کی خبر آئی، تو حضرت ام حبیبہ ؓ نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر اپنی کلائیوں اور اپنے رخساروں پر لگائی اور فرمایا:مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی، میں نے نبی ﷺ سے سنا :آپ ﷺ فرماتے تھے :کسی عورت کے لئے ،جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ،حلال نہیں کہ وہ اپنی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند پر کہ اس پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کر ے گی۔
(صحیح مسلم، حدیث نمبر:1491)
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ پہلی عید کے موقع پر مرحوم کے پسماندگان کا سوگ مناناایک خود ساختہ رسم ہے،جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں ہے،لہذا س سے اجتناب کرنا چاہیے۔
3۔عید کے دن قبرستان جانا:
بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ عید کے دن نمازِعید کےفوراًبعد قبرستان جانے کو ضروری خیال کیا جاتاہےاور اس دن قبروں کی زیارت نہ کرنے والوں پر طعن کی جاتی ہے،یہ بدعت اورناجائز ہےجس کو ترک کرنا لازم ہے،تاہم اگر اس کا التزام نہ کیا جائےاور اسے سنت اور ضروری نہ سمجھاجائےتو ٖ عید کے دن قبرستان جاناجائزہے۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:’’عید کادن مسرت کادن ہوتاہے،بسااوقات مسرت میں لگ کر آخرت سے غفلت ہوجاتی ہے،اورزیارت قبورسے آخرت یادآتی ہے،اس لیے اگرکوئی شخص عیدکے دن زیارتِ قبورکرے تومناسب ہے،کچھ مضائقہ نہیں،لیکن اس کاالتزام خواہ عملاً ہی سہی، جس سے دوسروں کویہ شبہ ہوکہ یہ چیزلازمی اورضروری ہے، درست نہیں۔نیزاگرکوئی شخص اس دن زیارت قبورنہ کرے، تواس پر طعن کرنایااس کوحقیرسمجھنا درست نہیں،اس کی احتیاط لازم ہے۔
(فتاویٰ محمودیہ ،ج:۹،ص:۲۰۱، ط:فاروقیہ )
لہذا عید کے دن قبرستان جانےکاالتزام کرنا،ہرسال اسے لازم اورضروری سمجھادرست نہیں ہے۔
4۔ماہِ شوال میں نکاح کو منحوس سمجھنا:
بعض لوگ دو عید وں کے درمیان اور شوال کے مہینے میں نکاح اورشادی کو منحوس سمجھتے ہیں ۔
شوال میں نکاح منحوس سمجھنے کی وجہ:
۱۔یہ زمانہ جہالیت میں عربوں کا خیال تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب کہتے کہ ’’شوال ‘‘ كا نام’’شوال ‘‘ اس ليے ركھا گيا كہ اس مہینے میں اوٹنى كا دودھ كم اور ختم ہو جاتا تھا،اور اونٹنی اونٹ سے دور ہوجاتی تھی، اس وجہ سے عرب اس ماہ ميں عقد نكاح کو منحوس سمجھتے تھے، اورکہتے کہ منكوحہ عورت بالكل اسى طرح خاوند سے دور اور رك جاتى ہے، جس طرح اونٹنى اونٹ سے دور رہتى اور اپنى دم مارتى ہے۔(۲۰)
۲۔اور ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ شوال میں طاعون پھیل گیا تھا،جس میں بہت سی دلہنیں مرگئی تھیں،اس لئے زمانہ جہالیت میں لوگ شوال کے مہینے میں نکاح منحوس سمجھنے لگے تھے اور اس میں شادی نہیں کرتے تھے۔(۲۱)
واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں ،جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔
جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس ماہ میں نکاح کیا اور اسی ماہ میں رخصتی فرماکر جہالیت کے باطل خیال و نظریہ کا رد کیا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت ہے :جناب رسول اللہ ﷺ نے ميرے ساتھ شوال ميں نكاح كيا، اور ميرى رخصتى بھى شوال ميں ہوئى، نبى كريم ﷺكے نزديك رسول اللہ ﷺ کی كونسى بیوی مجھ سے زيادہ خوش قسمت تھى ؟ "(۲۲)
(مسند احمد، 24272)
امام نووی اس حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:اہل عرب شوال میں نکاح کرنے کو یا شوال میں رخصتی کرا کر دلہن گھر لانے کو برا سمجھتے تھے، اور بدفالی لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا مقصد اسی غلط خیال کی تردید ہے کہ اگر اس میں کوئی حقیقت ہوتی، تو تمام ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ خوش نصیب میں کیوں کر ہوتی؟(23)
علامہ ابن كثير رحمہ اللہ كہتے ہيں:" جناب رسول اللہ ﷺكا شوال ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا کو بیاہ لانا، ان لوگوں كے وہم اور اعتقاد كا رد ہے، جو دونوں عيدوں كے درميان عورت سے رخصتى ناپسند كرتے ہيں كہ كہيں ان ميں جدائى ہى نہ ہو جائے، حالانكہ ایسی کوئی بات نہيں ہے۔(۲۴)
خلاصہ کلام :
۱۔شوال کے مہینے میں نکاح کو منحوس سمجھنا باطل نظریہ ہے،جس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
۲۔اس خیال کے باطل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نکاح ایک اہم عبادت ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء علیہم السلام کی سنت اور طریقہ ہے،(۲۵) نکاح کے ذریعہ آدمی بدنظری سے بچ جاتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت ہوجاتی ہے،(۲۶)اور حدیث شریف میں ہے کہ ”بندہ نکاح کرکے اپنا آدھا دین محفوظ کر لیتا ہے‘‘۔(۲۷)سوچنے کی بات ہے کہ جب نکاح اتنی اہم عبادت ہے، تو اس سے کیسے منع کیاجاسکتا ہے؟
اسی وجہ سے علمائے کرام نے شوال کے مہینے میں نکاح کو مستحب قراردیا ،تاکہ ایک باطل اور غلط عقیدہ کی تردید ہو۔(۲۸)
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں اس عظیم الشان مہینے کی برکتوں سے خوب مالا مال فرمائے، اور اس ماہ مبارک میں بدعات و خرافات سے بچائے اور اس مہینے کی قدر کرنے اور اس میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین
Tags
Issues
