رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
*قرآن مجید* اور *ہم*
بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔
تاکہ
ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں
*پارہ* 06
.. *يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِذَا قُمۡتُمۡ إِلَى ٱلصَّلَوٰةِ فَٱغۡسِلُواْ وُجُوهَكُمۡ وَأَيۡدِيَكُمۡ إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ وَٱمۡسَحُواْ بِرُءُوسِكُمۡ وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ -----*
اے لوگو جو ایمان لائے ہو جب تم نماز قائم کرنے لگو تو تم اپنے چہروں کو دھو لو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک اور اپنے سروں کا مسح کرلو،اور ٹخنوں تک اپنے پاؤں کو (دھولو) ۔۔۔۔۔۔
[Al-Ma'idah: 6]
*وضو نماز کی شرط ہے اور وضو کے بغیر نماز نامکمل ہے*
*ٱلصَّلَوٰةِ* سے مراد نماز ہے۔ صلاۃ کا لغوی معنی "دعا کرنا" ہے لیکن شریعت میں اس مخصوص طریقہ عبادت کا نام ہے جسکی ابتداء تکبیرتحریمہ اور اختتام سلام پر ہوتا ہے
*فَٱغۡسِلُواْ* کی معنی ہیں ہیں "دھونا"
*وُجُوهَكُمۡ* وجہ کی جمع ہے اور وجہ کہتے ہیں چہرے کو ۔۔۔ یعنی چہرے کا سامنے والا حصہ۔۔۔۔ ماتھے کے curve سے شروع ہوتا ہے اور ٹھوڑی سمیت۔۔۔ ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک چہرہ کہلاتا ہے
*وَأَيۡدِيَكُمۡ* تمہارے دونوں ہاتھ۔۔۔ ہاتھ کلائی سے اوپر تک کا حصہ ہے اور یاد رکھیں گے، ہاتھ میں کلائی شامل نہیں ہے
*إِلَى ٱلۡمَرَافِقِ* مرافق یعنی کہنی۔۔ بازو میں کہنی بھی شامل ہے
*وَٱمۡسَحُواْ* ہاتھ پھیرنے کو مسح کرنا کہتے ہیں۔۔۔ لیکن وضو میں خالی ہاتھ نہیں بلکہ پانی والا ہاتھ پھیرا جائے گا۔۔۔
*بِرُءُوسِكُمۡ* جہاں سے چہرہ ختم ہوتا ہے وہاں سے سر شروع ہوتا ہے اور گدی تک یعنی کی گردن تک
*یاد رکھیں کہ*
کان چہرے کا نہیں بلکہ سر کا حصہ ہیں اور سارے سر کا مسح کیا جاتا ہے تو اس میں بال بھی شامل ہیں اور دونوں کان بھی۔۔۔
*وَأَرۡجُلَكُمۡ إِلَى ٱلۡكَعۡبَيۡنِۚ ۔۔۔۔* دونوں پاؤں دونوں ٹخنوں سمیت۔۔ اندر اور باہر دونوں ٹخنوں کو دھوئیں ۔۔
*وضو قرآن و سنت کر روشنی میں*
*نیت (ارادہ)*
نیت دل کے ارادے کا نام ہے
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے چنانچہ ہر شخص کو وہی ملے گا جسکی اس نے نیت کی (صحیح البخاری:1)
*تسمیہ (اللہ کا نام لینا)*
بسم اللہ پڑھ کر وضو شروع کرنا
جو شخص وضو کے وقت اللہ کا نام نہیں لیتا اسکا وضو نہیں۔ (سنن الترمذی:25)
*ہاتھوں کا دھونا*
دونوں ہاتھ کلائی تک دھونا
ہاتھ کی انگلیوں کا خلال کرنا
سیدنا عثمان رضی اللہ نے وضو کا پانی منگوایا پھر اسے اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا اور ان کو تین مرتبہ دھویا ...... پھر فرمایا میں نے نبی کریم ﷺنےکو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے دیکھا ہے (صحیح البخاری:164)
تم جب بھی وضو کرو تو اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا کرو۔
(سنن الترمذی:39)
*کلی کرنا, ناک میں پانی ڈالنا اور جھاڑنا*
منہ میں پانی ڈالنے کے لیے سیدھا ہاتھ استعمال کرنا اور کلی کرنا
سیدھے ہاتھ سے پانی ڈالنا اور الٹے ہاتھ سے جھاڑنا
سیدنا عبداللہ بن زید نے نبی کریم ﷺ کے وضو کے بارے میں بتایا پانی کے تین چلوؤں سے تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اسے جھاڑا۔ (صحیح البخاری: 192)
*چہرہ دھونا*
اپنے چہرے کو کان سے کان تک اور ماتھے سے ٹھوڑی تک دھونا
سیدنا عثمان نے وضو کے لئے پانی منگوایا اور بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے۔ پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا۔(صحیح البخاری:164)
*انگلیوں سے داڑھی کا خلال کرنا*
دوران خلال پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچانا
رسول اللہﷺ جب وضو کرتے تو ایک چُلّو پانی لے کر اسے اپنی ٹھوڑی کے نیچے داخل کرتے اور اس سے اپنی داڑھی کا خلال کرتے اور فرماتے مجھے "میرے رب نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے"
*بازوؤں کو کہنی تک دھونا*
پہلے دایاں پھر بایاں بازو کہنیوں تک دھونا
نعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت ہے کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا انہوں نے چہرہ دھویا اور مکمل وضو کیا پھر اپنا دایاں ہاتھ اوپر پر بازو تک دھویا یا اسکے بعد اپنا بایاں ہاتھ اوپر بازو تک... آخر میں راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو اس طرح وضو کرتے دیکھا ہے ۔(صحیح مسلم)
*سر اور کانوں کا مسح کرنا*
دونوں ہاتھوں سے سر اور کانوں کا مسح کرنا
نبی اکرمﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا پھر ان کو آگے اور پیچھے کی جانب حرکت دی سر کے سامنے سے شروع کیا اور مسح کرتے ہوئے ان دونوں کو گدی تک گئے اور اس کے بعد ان کو واپس وہاں تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا
(صحیح البخاری:185)
سیدنا ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے اپنے دونوں کانوں کا مسح کیا اور اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے کانوں میں داخل کیا اور اپنے انگوٹھوں سے کانوں کے اندرونی اور بیرونی حصہ پر مسح کیا ۔
(سنن ابن ماجہ :439)
*ٹخنوں تک پاؤں دھونا*
دایاں اور بایاں پاؤں دھوتے ہوئے پاؤں کی انگلیوں کا خلال کرنا
سیدنا عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک سفر میں نبی کریم رسول ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے پھر آپ نے ہمیں پا لیا، جبکہ عصر کا وقت ختم ہو رہا تھا،آپ ہم وضو کرنے لگے اور جلدی جلدی پاؤں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔۔ آپ ﷺ نے دو یا تین بار بلند آواز سے فرمایا: *"خشک ایڑھیوں کے لیے عذاب ہے*"
(صحیح البخاری:96)
تم جب بھی وضو کرو تو اپنے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کی انگلیوں کا خلال کیا کرو کرو(سنن الترمذی: 39)
رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
Tags
Tafseer Quran
