Quran for me Para 4



رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

 *قرآن مجید* اور *ہم*
 بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔تاکہ ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں

 *پارہ 04
 
      
 .. *لَن تَنَالُواْ ٱلۡبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَيۡءٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ۔*
تم نیکی کو ہرگز نہیں پا سکتے یہاں تک کہ تم اس میں سے خرچ کرو جو تم پسند کرتے ہو اور کوئی بھی چیز جو تم خرچ کرو گے تو بے شک اللہ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے 

[سورة ال عمران : ٩٢]

 لفظ "ٱلۡبِرَّ" اپنے اندر بہت وسیع معنی رکھتا ہے۔  نیکی, بھلائی, احسان, سچائی, اطاعت, انعام, جنت, خیر کامل, رضائے الٰہی سب اس ایک لفظ میں موجود ہیں
      
    یہ سب ہم کب پاسکتے ہیں؟

*جب ہم خرچ کریں گے* 
    
کیا خرچ کریں ؟ 
*وہ جو ہمیں پسند ہے* 
 تو کیا ھم اپنی ساری محبوب ترین چیز قربان کر دیں ؟ 
       نہیں بالکل نہیں
 یہ نہیں کہا جارہا کہ سب دے دو۔۔۔  بلکہ اس میں سے کچھ دو جس درجہ کی قربانی ہو گی اس درجے کی خیر اور بھلائی ملے گی لہذا اللہ تعالیٰ کا انعام پانے, جنت کا مستحق بننے  کے لیے اپنے محبوب ترین  چیز کی قربانی شرط ہے* 

 محبوب ترین چیز کیا  ہو سکتی ہے؟ 

 مال 
اولاد
علم
 صلاحیت
 وقت
 کھانا
سونا وغیرہ 
تو اپنی محبوب ترین چیزوں کو اللہ کے لیے خرچ کر دو
 تو جب دے چکے ۔۔۔
 جس کو دے رہے ۔۔۔ اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہیے ؟  
احسان کا 
 بالکل نہیں
انسان سمجھتا ہے کہ وہ اس شخص پر احسان کر رہا ہے حالانکہ وہ دے کر احسان خود اپنی ذات پر کرتا ہے ہاں یہ سچ ہے وقتی طور پر تو جاتا ہوا محسوس ہوتا ۔۔۔ مگر یقین رکھیں کہ پلٹ کر آئے گا اور کئی گنا پلٹ کر ۔۔۔۔  تو روک کر کچھ نہ رکھیں چاہے مال ہو یا علم۔۔۔۔بخل سے بالکل کام نہ لیں 

اسلام ہم میں دینے کا مزاج پیدا کرنا چاہتا ہے، جب ہم دینے والے بن جائیں گے تو کیا نتیجہ نکلے گا؟ 

 *آپس کی محبتیں بڑھیں گی۔۔۔* 

 *ورنہ کیا ہوتا ہے؟* 

حسد ہوتا۔۔ کٹھن ہوتی۔۔۔ دوریاں ہوتیں اور خاندانوں میں محبتیں ختم ہو جاتیں ہیں 

*دینے والی خاصیت کس میں ہو سکتی ؟* 
     جو سچا ہو 

رسول اللہﷺنےفرمایا نے  کہ: " سچائی کو اختیار کرو
سچائی بِر کی طرف لے جاتی ہے اور  بِر جنت کی طرف۔۔ آدمی برابر سچ بولتا ہے اور سچ کی نیت کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اس کو صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔۔۔ جھوٹ سےبچو ۔۔ جھوٹ دوزخ کی طرف لے جاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے, جھوٹ کی نیت کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب یعنی بہت جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے". 

یاد رکھیں

اللہ تعالیٰ سب کچھ لوٹائیں  گے۔۔ بلکہ ایک نہیں کئی گنا بڑھا کر لوٹائیں گے۔۔ رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں اس مہینے دل کی خوشی کے ساتھ خرچ کریں۔  اور ہاں 
اصل چیز یہ نہیں کہ جا کہاں رہا ہے بلکہ اصل چیز تو یہ ہے کہ ہم کس نیت اور کس جذبے کے ساتھ دیتے ہی اللہ تعالیٰ آپ کا اور ہمارا خرچ کرنا قبول فرمائے   

*آمین یارب العالمین*   


رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form