رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
*قرآن مجید* اور *ہم*
بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔
تاکہ
ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں
*پارہ* 20
*إِنَّ قَٰرُونَ كَانَ مِن قَوۡمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيۡهِمۡۖ وَءَاتَيۡنَٰهُ مِنَ ٱلۡكُنُوزِ مَآ إِنَّ مَفَاتِحَهُۥ لَتَنُوٓأُ بِٱلۡعُصۡبَةِ أُوْلِي ٱلۡقُوَّةِ إِذۡ قَالَ لَهُۥ قَوۡمُهُۥ لَا تَفۡرَحۡۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلۡفَرِحِينَ*
*سورة القصص: 76*
بیشک قارون موسیٰ کی قوم سے تھا، پس اس نے ان پر سرکشی کی اور ہم نے اسے اتنے خزانے دیے کہ بلا شبہ ان کی چابیاں یقینا ایک طاقتور جماعت پر بھاری ہوتی تھیں۔ جب اس کی قوم نے اس سے کہا مت پھول، بیشک اللہ پھولنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
مال کی کثرت انسان میں *فخر، غرور اور تکبر* پیدا کر دیتی ہے
عموماً لوگ مال پاکر خوش ہو جاتے ہیں۔۔۔ اترانے لگتے ہیں اور خود کو بڑی چیز سمجھنے لگتے ہیں۔۔۔۔ اور *اللہ کی نظر میں گر جاتے ہیں*
مال کو اپنے علم ۔۔۔اپنی قابلیت ۔۔۔اپنی صلاحیت اور اپنی مسلسل کوشش کا نتیجہ سمجھتے ہیں
*یاد رکھیں*
*علم کے باوجود بھی انسان بھٹکتا ہے* ۔۔۔ جب اس میں *اللہ کا ڈر نہ* ہو۔۔۔۔ تو وہی علم اس کی سرکشی کا ذریعہ بن جاتا ہے
*قارون کا انجام* دیکھ لیں۔۔۔
قارون اپنے گھر والوں۔۔۔ اپنے خزانوں ۔۔۔ اپنے محل کے ساتھ زمین میں دھنسا دیا گیا .... مصیبت کے وقت وہ تنہا تھا... کوئی اس کی مدد نہ کر سکا
دنیادار سمجھتے ہیں کہ مالدار بڑے ہی خوش قسمت ہیں۔۔۔
جبکہ بندہ مومن جانتا کہ یہ رزق کی تقسیم اللہ کی طرف سے ہے جس کے لئے چاہے پھیلا دے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردے
*عقلمند وہ ہے* جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت پکڑے اور عبرت حاصل کریں۔۔۔
پھر
بندہ مومن کا کیا رویہ ہونا چاہیے۔۔۔۔؟؟
کسی غرور، تکبر اور فخر کا شکار نہ ہو بلکہ
اللہ تعالی جب مال سے ۔۔۔ علم سے ۔۔۔ جاہ ومرتبہ سے نوازے تو
اپنے رب کے آگے جھکنے والا بن جائے
اس کے بندوں پر خرچ کرنے والا بن جائے
قارون کا انجام *برا* کیوں ہوا۔۔۔؟؟
بہت زیادہ مال و دولت کی وجہ سے ۔۔۔
بادشاہ وقت (فرعون) کے تقرب کی وجہ سے
نہیں بالکل نہیں
اس لیے کہ وہ مال پا کر شکر گزار ہونے کی بجائے۔۔۔ رب کے بندوں پر خرچ کرنے کی بجائے۔۔۔ فخر اور غرور میں مبتلا ہوا ۔۔ مال کو جمع کیا اور اپنے تک محدود رکھا۔۔۔
*یاد رکھیں*
*مال سے صرف دنیا چاھنا ہلاکت کا سبب ہے*
مال اپنی ذات پر۔۔۔ گھر والوں پر خرچ کریں ۔۔۔ لیکن *آخرت کو نہ بھولیں*
*ان شاءاللہ تعالیٰ*
*کرنے کے کام*
لوگوں سے بے نیاز ہو جائیں اور اللہ تعالی کے ساتھ تعلق کو مضبوط کریں۔۔۔صرف اسی سے مانگیں
مال آخرت کو سامنے رکھ کر خرچ کریں
مال، علم یا کوئی نعمت پا کر ۔۔۔۔اپنے اندر اپنی بڑائی یا تکبر کا کوئی جذبہ دیکھیں تو فوراً استغفار کریں ۔۔۔۔
بخل سے بچنے کی دعا کرتے رہیں۔
*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنََ الْعَجْزِ وَ الْکَسَلِ وَ الْجُبْنِ وَ الْھَرَمِ وَ الْبُخْلِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْیَا وَ الْمَمَاتِ۔*
اے الله! بے شک میں تیری پناه مانگتا ہوں عاجزی، سستی، بزدلی، بہت بڑھاپے اور بخل سے اور میں تیری پناه مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنوں سے۔
*آمین یارب العالمین*
رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں ...اللہ کے راستے میں اللہ کے دیے ہوئے میں سے خرچ کریں۔۔۔
*ان شاءاللہ تعالیٰ*
رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
Tags
Tafseer Quran