Quran for me Para 21


رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

 *قرآن مجید* اور *ہم*

بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔

تاکہ

ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں

*پارہ* 21

**يَٰبُنَيَّ إِنَّهَآ إِن تَكُ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ فَتَكُن فِي صَخۡرَةٍ أَوۡ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ أَوۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَأۡتِ بِهَا ٱللَّهُۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ° يَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِ ° وَلَا تُصَعِّرۡ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمۡشِ فِي ٱلۡأَرۡضِ مَرَحًاۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُورٍ ° وَٱقۡصِدۡ فِي مَشۡيِكَ وَٱغۡضُضۡ مِن صَوۡتِكَۚ إِنَّ أَنكَرَ ٱلۡأَصۡوَٰتِ لَصَوۡتُ ٱلۡحَمِيرِ*

*سورة لقمان :16-19*

پیارے بیٹے ! اگر (تیرا عمل) رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، اللہ اسے  نکال لائے گا۔ اللہ یقینا باریک بین اور باخبر ہے 
پیارے بیٹے ! نماز قائم کرو، نیکی کا حکم کرو اور برے کام سے منع کرو اگر تجھے کوئی تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کرو  ۔ بلاشبہ یہ سب باتیں بڑی ہمت کے کام ہیں
اور (از راہ تکبر) لوگوں سے اپنے گال نہ پھلانا، نہ ہی زمین میں اکڑ کر چلنا (کیونکہ) اللہ کسی خود پسند  اور شیخی خور کو پسند نہیں کرتا
اور اپنی چال میں اعتدال ملحوظ رکھو اور اپنی آواز پست  کرو۔ بلاشبہ سب آوازوں سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

*لقمان حکیم*۔۔۔ ایک صاحب حکمت شخصیت۔۔۔ ان کے اپنے بیٹے کو کی جانے والی نصیحتیں۔۔۔ *بہترین Parenting کے اصولوں* پر مبنی ہیں

والدین جہاں جسمانی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں وہاں انھیں اپنی اولاد کے *بنیادی عقائد اور ان کی اخلاقی صحت* کے بارے میں فکر مند ہونا بھی ضروری ہے۔۔۔

*حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کے لیے وصیتیں*

  *خود اور اپنے بچوں میں اخلاق کو درست کیجیئے اور تقویٰ پیدا کریں۔۔۔*

 عمل۔۔ چاہے رائی کے دانے کے برابر بھی ہو پھر وہ خواہ کتنا ہی پوشیدہ اور ڈھکا چھپا کیوں نہ ہو قیامت کے دن اللہ اسے پیش کرے گا میزان میں سب کو رکھا جائے گا اور بدلہ دیا جائے گا نیک کام پر جزا اور بد پر سزا.

اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا ، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا ( یقین مان ) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے 

لوگوں کے سامنے اپنے گال نہ پھلا اور زمین پراترا کر نہ چل کسی تکبر کرنے والے شیخی خورے کو اللہ تعا لٰی پسند نہیں فرماتا ۔

اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے ۔

*پہلی وصیت(وضاحت)*

*اللہ تعالیٰ کا علم غیب وسعت والا ہے*_

ذرہ برابر نیکی یا ذرہ برابر برائی۔۔۔۔  اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی چھپ ہوا نہیں

 کسی مکان میں ہو یا محل میں ۔۔۔ کسی قلعہ میں ہو یا پتھر کے سوراخ میں ۔۔۔ آسمانوں کے کونوں میں ہو یا زمین کی تہوں میں۔۔۔

 اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی مخفی نہیں 

 اندھیری رات ۔۔۔
 سیاہ پتھر ۔۔۔۔
  چھوٹی سے چیونٹی۔۔۔۔
 وہ *خبیر* اس کے پاؤں کی آہٹ تک کا علم رکھتا ہے ۔

تو نہ صرف ہمارے اعمال بلکہ  ہمارے دلوں کے خیالات تک کو جانتا ہے

 اس کے پاس ہمارا پورا پورا ریکارڈ بھی موجود ہے

           ()لہذا()

 *جو کام بھی کرو* 
 سوچ سمجھ کر کرو
اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو۔

وہ رب جو کسی کھوہ کی تاریکیوں میں پڑا ہوا رائی کا دانہ  اپنے پاس لانے پر قدرت رکھتا ہے تو موت کے بعد ہمیں دوبارہ اپنے پاس حاضر کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ 

 *دوسری وصیت(وضاحت)*

 نماز ہمیشگی کے ساتھ۔۔۔ باجماعت ادا کرتے رہنا 

یہ کوئی معمولی کام نہیں بلکہ "باہمت لوگوں" کا کام ہے۔ 

اچھے کاموں کا حکم دینا اور  برے کاموں سے روکتے رہنا بھی عام لوگوں کے بس کی بات نہیں....  بلکہ یہ بھی *"صاحب عزم"* لوگ ہی کرسکتے ہیں۔

*امر بالمعروف ونہی عن المنکر* کرنے والے ستائے جاتے۔۔۔۔ ایذا پہنچائے جاتے

*یاد رکھیں* 

 یہ پیغمبروں کا اسوہ ہے۔۔۔۔ اسی لئے پیغمبر ستاتے اور دکھ پہنچائے جاتے تھے۔


تو اس راہ میں پہنچنے والے    دکھ اور ایذائیں خندہ پیشانی سے برداشت کرنا اور  ان مصائب پر صبر کرنا کوئی *معمولی کام* نہیں۔ 

 *تیسری وصیت(وضاحت)*

گال پھلا پھلا کر باتیں کرنا اور اکڑ اکڑ چلنا یہ سب خود پسندوں اور متکبروں کی ادائیں ہیں

متکبر انسان اپنی 
 گفتگو۔۔۔۔وضع قطع۔۔۔۔چال ڈھال۔۔۔۔۔اپنی ہر ایک ادا سے اپنی بڑائی کا ظاہر کرتا ہے

جانتے ہیں کہ 
اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ایک ایک حرکت سخت ناگوار ہے

 *چوتھی وصیت(وضاحت)*

اکڑ کر چلنے سے منع کیا گیا ہے 

تو ممکن ہےکہ 

 اس پر عمل کرتے ہوئے کوئی انتہائی کمزور اور مریل چال اختیار کرے، 

 اس لیے چال میں میانہ روی کا حکم دیا، جس سے نہ تکبر کا اظہار ہوتا ہو نہ کمزوری کا

اور پھر 

 *” اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھو “*

اس سے معلوم ہوا کہ بلا ضرورت اونچی آواز سے نہیں بولنا چاہیے،

 کیونکہ یہ وقار کے خلاف ہے اور چلا کر بولنے سے سننے والے کو تکلیف ہوتی ہے۔

 بولتے وقت اپنی آواز کسی قدر پست رکھنی چاہیے، نہ اتنی کہ سننے والے سن یا سمجھ ہی نہ سکیں۔

*یاد رکھیں* 

  بلا ضرورت اونچی آواز سے بولنے اور چیخنے کی مثال گدھے کی آواز جیسی ہے اور تمام آوازوں سے بری آواز گدھے کی ہے۔ 

اللہ تعالیٰ نے جہنمیوں کے چیخنے چلانے کی آوازوں کو ” زَفِیْر “ اور ” شَھِیْقٌ“ (گدھے کی آواز) کہا ہے

 اس سے گدھے کی آواز کا شدید مکروہ ہونا ظاہر ہوتا ہے

 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گدھے کے رینکنے کی وجہ اس کا شیطان کو دیکھنا بیان فرمایا ہے۔

 ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ( إِذَا سَمِعْتُمْ صِیَاح الدِّیَکَۃِ فَاسْأَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہِ فَإِنَّہَا رَأَتْ مَلَکًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَہِیْقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوْا باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ فَإِنَّہُ رَأَی شَیْطَانًا ) [ بخاري : ٣٣٠٣ ] ” جب تم مرغوں کے چیخنے کی آواز سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کرو، کیونکہ انھوں نے کوئی فرشتہ دیکھا ہے اور جب تم گدھے کے رینکنے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو، کیونکہ اس نے کوئی شیطان دیکھا ہے۔ “

 یہ مثال دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم گدھے کی مشابہت اختیار مت کرو۔

 *کرنے کے کام*
 
 اپنی اور بچوں کی بنیادی عقائد کی اصلاح کریں۔۔۔ اور اس کے لیے درست علم سیکھیں

  ہر معاملے میں میانہ روی اختیار کریں

رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں ...اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اور اپنی اولاد کی ہر طرح کی اصلاح کرنے کی توفیق دے ۔۔ ان حکمت بھری نصیحتوں پر عمل کرنا آسان فرما دے 

*آمین یارب العالمین*   


رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form