رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
*قرآن مجید* اور *ہم*
بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔
تاکہ
ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں
18 *پارہ*
*..... اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ*
*سورة النور:35*
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے، جس میں ایک چراغ ہے، وہ چراغ ایک فانوس میں ہے، وہ فانوس گویا چمکتا ہوا تارا ہے، وہ (چراغ) ایک مبارک درخت زیتون سے روشن کیا جاتا ہے، جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی۔ اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہوجائے، خواہ اسے آگ نے نہ چھوا ہو۔ نور پر نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
*آیت نور۔۔۔۔۔۔!!!*
اللہ تعالیٰ سورة النور میں ہی فرماتا ہے:
"بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف واضح آیات نازل کی ہیں"
*واضح آیات نازل کرنے کا مقصد ۔۔۔!!*
لوگوں میں گمراہی اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر نور ہدایت کی طرف لانا
*اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے* یعنی آسمان اور زمین جو روشن ہیں تو اللہ کے نور ہی سے روشن ہیں
*یاد رہے*
اللہ کی کوئی مثال ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا:
(لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ )
[ الشورٰی : ١١ ]
” اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔ “
نور کا منبع اللہ کی ذات ہے
اللہ کے نور سے عرش، کرسی، چاند، سورج، جنت منور ہے
اللہ کا حجاب نور ہے
*نور دو طرح کا*
*حسی نور*
»سورج
»چاند
»ستارے وغیرہ
*معنوی نور*
»اللہ کی کتاب
»اللہ کی شریعت
»ایمان
»اللہ کی معارفت وغیرہ
*دونوں نوروں کا منبع اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے*
نور سے مراد *ہدایت کا نور ہے کہ وہ صرف اللہ کی عطا ہے*
*اور آگر یہ نور نہ ہو تو ۔۔۔۔۔۔*
ہم سب گمراہی کے اندھیروں میں ڈوب جائیں ۔۔۔
ہدایت کا یہ نور اگر کسی دل میں نہ ہو تو جتنے بھی انبیاء آجائیں یا جتنی بھی آیات الٰہی نازل ہوں دل کے اندھے کو ان سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ اور اگر یہ نور آنکھوں یا کانوں میں نہ ہو تو تمام معجزے اور ہر وعظ و نصیحت بےکار ہے
ابن عباس (رض) ۔۔۔مفسر قرآن فرماتے ہیں:
” اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے “
فرمایا :” مومن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی مثال اس طرح ہے جیسے صاف زیتون کا تیل، قریب ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہی روشن ہو جائے کہ اسے آگ چھوئے، پھر جب اسے آگ چھوتی ہے تو وہ روشنی پر روشنی میں بڑھ جاتا ہے، ایسے ہی مومن کا دل ہے کہ اس سے پہلے ہی ہدایت پر عمل کرنے والا ہوتا ہے کہ اس کے پاس علم آئے، پھر جب اس کے پاس علم آتا ہے تو وہ ہدایت پر ہدایت میں بڑھ جاتا ہے اور نور پر نور میں بڑھ جاتا ہے۔ “
[ طبري : ٢٦٣١٣ ]
*طاق سے مراد* مومن کا سینہ ہے،
*فانوس سے مراد* مومن کا دل ہے،
*چراغ* وہ ایمان اور قرآن ہے جو مومن کے دل میں ہے۔
*ستارے کی طرح چراغ کے روشن ہونے سے مراد* مومن کے دل کا نور ایمان سے منور ہونا ہے
*تو یاد رکھیں۔۔۔۔!!*
دل جسم کاسب سے قیمتی حصہ ہے اللہ تعالیٰ اسی دل کی بنیاد پر ہی بندوں کو چنتا ہے۔۔۔
*تو ایک مومن کا دل کیسا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟*
صاف۔۔۔ شفاف
تکبر حسد بغض جیسی بری صفات سے پاک
دل میں نور بڑھانے کی ضرورت تاکہ بری صفات سے دل کی محفوظ رکھا جا سکے.....!!
*ایسے کام کریں جن سے نور میں اضافہ ہوتا ہے ۔۔۔*
ایمان اور تقوی نور بڑھانے کے ذریعہ
قرآن وسنت کی پیروی نور میں اضافہ کا سبب
وضو کے ذریعے اعضاء وضو روشن
پانچ نمازوں کی پابندی نور کے حصول کا ذریعہ
تلاوت قرآن ۔۔ سورہ الکہف سے نور ہی نور
انصاف کرنے ۔۔صدقہ کرنے۔۔۔ صبر سے نور کا حصول
*کرنے کے کام*
اوپر دیے ہوئے کاموں کو اپنی روزمرہ روٹین میں شامل کریں۔۔۔
دل کو ہر طرح کی میل کچیل سے صاف رکھنے کی کوشش کرتے رہیں
نور میں اضافے کے لیے دعاؤوں کا اہتمام کریں
*رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ اِنَّكَ عَلَی كُلِّ شَیْئٍ قَدِيْر*
اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہماری بخشش فرما، بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ ( التحریم : 8 )
*اَللّٰهُمَّ اَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِنَا وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا وَاھْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَی النُّوْرِ وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ وَبَارِكْ لَنَا فِیْ اَسْمَاعِنَا واَبْصَارِنَا وَقُلُوْبِنَا وَاَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ وَاجْعَلْنَا شَاكِرِیْنَ لِنِعَمِكَ مُثْنِیْنَ بِھَا عَلَيْكَ قَابِلِیْنَ لَھا وَاَتْمِمْھَا عَلَیْنَا*
اے الله ! ہمارے دلوں میں الفت ڈال دے اور ہماری باہم اصلاح فرما، ہمیں سلامتی کے راستے دکھا اور ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نجات عطا کر ، ہمیں ظاہری اور چھپے ہوئے گناہوں سے بچا، ہمارے لیے ہماری سماعتوں ، بصارتوں ، دلوں ، بیویوں اور اولاد میں برکت دے ، تو ہم پر مہربان ہو جا، بے شک تو ہی توبہ قبول کرنے والا ، رحم فرمانے والا ہے۔ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا بنا دے تاکہ ان کے ذریعے ایک دوسرے کے مقابلے میں تیری تعریف کرنے والے بن جائیں اور انہیں (نعمتوں کو) ہم پر پورا کر دے۔
*آمین یارب العالمین*
رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں ... اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کو نور سے بھر دے
*آمین یارب العالمین*
رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
Tags
Tafseer Quran
