*اٹھارواں پارہ*
*خلاصہ*
اس پارے میں تین حصے ہیں:
۔ سورۂ مؤمنون (مکمل)
۔ سورۂ نور (مکمل)، سورۂ فرقان (ابتدائی حصہ) اگلے میسج میں بھیجی جائے گی
سورۂ مؤمنون کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
آیت 1-11: فلاح پانے والے کون ہیں؟
۔جو اللہ اور اُسکے رسول ؐپر ایمان لائے
۔نماز وں میں خشوع کرنے والے
خشوع یہ ہے کہ انسان کا دل اندر سے حاضر ہو
رسول اللہ ؐ نے فرمایا، جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر خشوع و خضوع کے ساتھ متوجہ ہو کر دو رکعت نماز ادا کرے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔
نماز کا اجر خشوع کے حساب سے ہی ملتا ہے (مفہومِ حدیث)
آپ ؐ نے فرمایا اس امت میں سب سے پہلے خشوع اٹھا لیا جائے گا حتیٰ کہ تم کو ایک بھی خشوع والا آدمی نظر نہیں آئے گا
۔ لغو باتیں چھوڑ دینے والے
لغو ، ایسی باتیں /کام جن میں کوئی فائدہ نہ ہو لغو ہیں
جو شخص لغو سے بچتا ہے پھر وہ حرام سے بھی بچتا ہے
اسلام کا حسن یہ ہے کہ انسان بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے
+حدیث میں آتا ہے ایک نماز کے بعد دوسری نماز اور اس کے درمیان لغو نہ ہو تو وہ علیین میں لکھا جاتا ہے۔
-زکوۃ ادا کرنے والے
نبی اکرمؐ نے فرمایا چار باتیں ایسی ہیں جو ان کو ایمان کے ساتھ بجا لایا تو وہ جنت میں داخل ہو گا
نمازوں کی حفاظت ، رمضان کے روزے ، حج کیا ، خوش دلی سے زکوۃ دی
۔ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے
نبی اکرم ؐ نے فرمایا تم مجھے دو چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہو
زبان اور شرمگاہ
۔ اپنے عہد اور امانت کو پورا کرنے والے
امانت اور عہد ہر وہ کام ہے جو انسان اپنے ذمہ لیتا ہے، خواہ وہ دین کا ہو یا دنیا کا۔۔وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت منافق کی نشانی ہے
۔نماز کو وقت پر پڑھنے والے
نبی اکرمؐ نے فرمایا اللہ نے جنت کو پیدا کیا ،ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی اور گارا کستوری کا تھا ، پھر اللہ نے کہا کلام کر توجنت نے کہا کہ قد افلح المومنون
فرشتوں نے کہا اے جنت تیرے لئے خوشخبری ہے تو تو بادشاہوں کا ٹھکانا ہے
یہی لوگ جنت کے وارث (بادشاہ) ہیں
جنت الفردوس جنت کا سب سے اعلی مقام ہےاللہ سے اسی کا سوال کرنا چاہیے
اللھم انی اسالک جنۃ الفردوس واعوذبک من النار۔۔۔آمین(دن میں تین مرتبہ یہ دعا ضرور پڑھیں)
آیت 11-16: انسان کی تخلیق اور انجام
مٹی ،منی ،جما ہوا خون ،لوتھڑا ،ہڈی ،گوشت کا لباس ،انسان ،موت ،دوبارہ (آخرت کی)زندگی
آیت 18-22: اللہ کی نعمتیں
کجھور ، انگور ، زیتون ،دودھ، مویشی ، کشتی اور پانی کا ذکر ہے
اللہ نے پانی کو ضرورت کے مطابق اتارا ہے پانی اللہ کی نعمت اور رحمت ہے
آیت 23-30:ٍ حضرت نوح ؑ ، ان کی کشتی اور تمام ایمان لانے والوں کو اللہ کا بچا لینا اور نوح ؑ کے منکرین کا پانی میں غرق ہونے کا ذکر ہے
آیت 31-44: دوسری قوموں کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کا اور آخرت کا انکار کیااور سب کا اعتراض یہی رہا کہ(یہ نبی ) خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑ رہے ہیں۔
آیت 45-50: حضرت موسیٰؑ ، ہارونؑ، عیسی ؑ ، مریم ؑ کا ذکر
آیت 51: یہاں پر حکم دیا گیا کہ پاک غذا کھاؤ اور نیک عمل کرو
رزق حلال سے انسان کی عبادت میں بھی خشوع پیدا ہوتا ہے
آیت 55-56: نعمتوں کی کثرت حق کی دلیل نہیں
آیت 57-61: مومنین کی صفات کا ذکر۔
وہ جو اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہیں
وہ جو اس کی آیات پر، اس کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں
وہ اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کرتے۔
ساری نیکیاں کرکے بھی اللہ سے ڈرتے ہیں۔
نیک کام کر کے تکبر کا شکار نہیں ہوتے
حضرت عائشہ نے رسول اللہ ؐ سے (آیت نمبر 60 )کی مد میں پوچھا کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں آپ ؐ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں ،نمازپڑھتے ہیں ، صدقہ دیتے ہیں ، لیکن ڈرتے ہیں کہ کوئی ایسی غلطی نہ ہوجائے کہ سب اعمال ضائع ہو جائیں۔
آیت 71: حق اگر لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے لگے تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جائے
آیت 72: رزق صرف اللہ ہی دیتا ہے
آیت 78-92: اللہ نے انسان پر اپنی چند نعمتوں کا ذکرکرنے کے بعد فرمایاکہ کم لوگ شکر گزار ہیں اور بے دلیل آخرت کا انکار کرتے ہیں ان سے پوچھو کہ زمین اور اسکی آبادی ،ساتوں آسمان اور عرشِ عظیم کا مالک کون ہے؟ تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ
تو پھر کیوں نہیں ڈرتے؟
پھر بھی اللہ کی اولاد اور دوسرےخدا بناتے ہیں اللہ پاک ہے اُس شرک سے جو یہ تجویز کر رہے ہیں
آیت 96: احسن وہ ہے جو برائی کو اچھائی کے ساتھ دور کریں
آیت 97-98: نبی اکرم ؐ نے فرمایا جب انسان کو غصہ آئے تو تعوز پڑھ لے اور اللہ کی پناہ لے لے۔
+شیطان سے بچنے کی دعا: رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَاَعُوْذُبِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ
آیت 99: جب انسان کو موت آئے گی تو وہ تمنا کرے گا کہ وہ واپس اس دنیا میں بھیج دیا جائے۔ وہ اس وقت حسرت کرے گا کہ میں واپس بھیجا جاؤں اور اور کچھ اچھا کرلو مگر ایسا کچھ نہیں ہوگا
آیت101: رسول اللہ ؐ نے فرمایا جب سے صور پھونکنے والے فرشتے کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے تب سے وہ تیار حالت میں وہ اپنی آنکھیں عرش کی طرف لگائے ہوئے ہے اس بات سے ڈرتے ہوئے کہیں حکم ملنے سے اُس کی نگاہ اِدھر اُدھر نہ ہو
آیت 103-115: اہلِ جہنم پر دردناک عذاب کی کیفیات کے بعد اُن کا اعترافِ جرم اوررب سے دردمندانہ اپیلوں کےذکر کے بعد رب کاجواب موجود ہے ، اب تم ادھر جہنم میں پڑھے رہو اور دنیا کی زندگی میں تم نے میر ا اور میری طرف بلانے والوں کا انکار کردیاتھا ۔(بہت دردناک مکالمہ ہے )۔
اٹھارویں پارے کی سورة مومنون کا خلاصہ مکمل ہوا۔*
سورۂ نور کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔
آیت 1: اس سورۃ میں کہی گئی باتیں” سفارشات “نہیں ہیں کہ آپ کا جی چاہے مانیں ورنہ جو چاہیں کرتے رہیں بلکہ قطعی احکام ہیں جن کی پیروی کرنا لازمی ہے ۔
آیت 2: زانی اور زانیہ کی سزا سو کوڑے ہیں بغیر رحم کے جذبے کے اور اہلِ ایمان کے گروہ کے سامنے
یہ حکم غیرشادی شدہ کے لیے ہےاور شادی شدہ زانی کے لئے رجم(سنگسار) کا حکم ہے
رسول اللہ ؐ نے فرمایا زانی جس وقت زنا کرتا ہے اُس وقت وہ مومن نہیں رہتااور اگر وہ اسی حالت میں دنیا سے رخصت ہو جائے تو وہ ایمان سے خالی دنیا سے گیا۔
آیت 3: بدکار مرد یا عورت کو نکاح کے لیے پسند کرنا مسلمانوں پر حرام ہے۔
لوگ نکاح کرتے ہوئے چار چیزیں دیکھتے ہیں ۔حسن ، پیسہ ، حسب نسب اور دین ، تم دین کو ترجیح دو(مفہومِ حدیث)
آیت 4&23: عاقل ، بالغ ، پاکدامن مرد یا عورت پر بغیر گواہوں کے زنا کی تہمت لگانے والے کی سزا اسی کوڑے ہیں اس تہمت تراشی کو قذف کہتے ہیں
حضوراکرمﷺ نے فرمایا بے شک سب سے بڑا سود یہ ہے کہ انسان ناحق کسی انسان کی عزت سے کھیلے اور تہمت لگانے والوں کو کوڑے پڑیں گے
آیت 6-9: خاوند اپنی بیوی پر الزام لگائے اور بیوی انکار کرے تو کیا کیا جائے۔۔؟ان آیات میں اس کا طریقہ موجود ہے اور شریعت کی اصطلاح میں اسے لعان کہتے ہیں۔
آیت 11-18: واقعہ اِفک
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر بعض منافقین نے بہتان لگایا جو کہ بہت بڑا بہتان تھا ، جو مسلمانوں کی روحانی ماں پر لگایا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے دس آیات میں اس واقعے کا ذکر فرمایا ہے ان آیات میں منافقین کی مذمت ہے اور مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ آئندہ کبھی اس قسم کی بہتان تراشی میں حصے دار نہ بنیں اور حضرت عائشہؓ کی عفت و عصمت کا اعلان فرمایا گیا۔
آیت 19: جو لوگ ایمان والوں میں فحاشی پھیلانا چاہتے ہیں اُن کے لئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ بے حیائی پسند نہیں کرتا اللہ بے حیا سے اور بے حیائی تلاش کرنے والے سے بغض رکھتا ہے اور قیامت اُس وقت تک نہیں آئے گی جب تک فحش اور بے تکلف فحش گوئی عام نہ ہو جائے۔
اللہ فحش کاموں سے نفرت کرتا ہے سوشل میڈیا (Whatsapp, Facebook, Instagram etc.) (ویڈیو سانگزsongs، نامحرموں کی تصاویر ،موویز،ویب سائٹس لنکس) کیاہم بھی فحاشی پھیلا رہے ہیں؟
یہ سب گناہِ جاریہ ہے جو آپ کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے گا ۔
آیت 21: شیطان کی پیروی نہ کرو وہ فحش اور بُرے کاموں کا حکم دیتا ہے۔
آیت 22: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ درگزر کیا کرو تمہیں عزت عطا کی جاتی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بندہ ظلم کو معاف کرے گا اللہ قیامت کے دن اُس کی عزت بڑھا دے گا۔
آیت 26: خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لئے ہیں، اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے، پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں، اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے
آیت 27-28: اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، جب تک کہ گھروالوں کی اجازت نہ لے لو
جواب/اجازت نہ ملے تو داخل نہ ہو، اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس لوٹ جاؤ
آیت 30-31: یہاں مومن مردوں اور مومن عورتوں سے کہا گیا ہےکہ اپنی نظروں اور شرمگاہوں کی حفاظت کرو
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے علی رضی اللہ عنہ نظر کے پیچھے نظر مت لگاؤ کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے دوسری نہیں
جیسے مرد نامحرم عورت کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح عورت کو بھی نامحرم مرد کو دیکھنے کی ممانعت ہے (فلمیں اور ڈرامے کیسے دیکھے جا سکتے ہیں ؟)
نظر شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے عام طور پر برائی کا آغاز نظر سے ہی ہوتا ہے
عورت کا لباس جیسا بھی ہو مومن مرد اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے اور مرد کی نگاہ جتنی بری ہو عورت اپنی زینت (سر سے پاؤں تک ) کو چھپائے
اورعورت اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائے، سوائے اس کے کہ وہ خود ظاہر ہوجائے(چادر)
اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہو
عورتیں اپنا بناؤ سنگھار صرف شوہر کے لئے کرسکتی ہیں
اور ہاتھ پاؤں ،چہرہ جن لوگوں کے سامنے کھولا جاسکتا ہے ان کی تفصیل اس آیت میں موجود ہے (آیت 31)
عورتیں اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں
آیت 31-33: ان آیات میں نکاح کی ترغیب ہے
آیت 35-37: اللہ زمین وآسمان کا نور ہے (بہترین مثال تفصیل کے لئے تفسیر دیکھیں)
آیت 39: دوسری مثال اہل باطل کے اعمال کی ہے ، ان کے اعمال کی مثال سراب جیسی ہےکہ وہ اپنے اعمال کو نافع سمجھتا ہے، لیکن جب موت کے بعد اللہ کے سامنے پیش ہوگا تو وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا، اس کے اعمال غبار بن کر اڑچکے ہوں گے۔
آیت 40: کافروں کے عقائد کو سمندر کی تہ بہ تہ تاریکیوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو کفر اور ضلالت کی تاریکیوں میں سرگرداں رہتا ہے۔
آیت 51: مسلمان تو وہی ہے جب اللہ اور رسول کی بات بتائی جائے تو وہ کہےمیں نے سن لیا ، میں نے مان لیا۔
آیت 55: اگر مسلمان نیک عمل کریں تو اللہ ان کو دنیا میں غلبہ عطا کرے گا اُن کے لئے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا اُن کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔
آیت 56: نماز پڑھو،زکوۃ دو،رسول ﷺ کی اطاعت کرو تاکہ تم پہ رحم کیا جائے
آیت 58-59: چھوٹے بچوں اور گھر میں رہنے والے غلاموں اور باندیوں کو حکم ہے کہ اگر وہ نماز فجر سے پہلے ، دوپہر کے قیلولے کے وقت اور نماز عشاء کے بعد تمہارے کمرے میں داخل ہوں تو اجازت لے کر داخل ہوں
بچے جب بالغ ہوجائیں تو وہ بھی باقی مردوں کی طرح اجازت لے کر آئیں۔
آیت 60: بوڑھی عورتوں بھی حیا داری برتیں۔
آیت61: گھروں میں داخل ہوتے ہوئے سلام اور رشتے داروں کے گھروں میں کھانے پینے کے آداب کا تفصیلی ذکر ہے.
اٹھارہویں پارے کی سورة نور کا خلاصہ مکمل ہوا۔
Tags
Summary Quran
