Summary Para 10


 *دسواں پارہ*
 *خلاصہ*
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۔ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ
۔ سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ۔
١۔سورة انفال کا بقیہ حصہ۔
 مال غنیمت کا حکم:
آیت 41:
مال غنیمت کا حکم یہ بیان ہوا کہ خمس نبی علیہ السلام آپ کے اقرباء یتیموں مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور باقی چار حصے مجاہدین کے لیے ہیں۔مالِ غنیمت پچھلی اُمتوں کے لئے حلال نہیں تھا ۔ محمدﷺ کے لئے اس کو حلال کیا گیا ۔
 غزوۂ بدر کے حالات: آیت42-44& 48
 ۔کفار مسلمانوں کو اور مسلمان کفار کو تعداد میں کم سمجھے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس جنگ کا ہونا اللہ کے ہاں طے ہوچکا تھا۔
 ۔شیطان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا رہا دوسری طرف مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے۔
 ۔قریش غزوۂ بدر میں ذلیل و خوار ہوئے۔

۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب: آیت45 & 46
میدان جنگ میں ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے
آپس میں اختلاف اور لڑائی سے بچ کر رہنا مقابلے میں نا موافق امور پر صبر

آیت 50: کافروں کی موت کے وقت فرشتے اُن کے چہروں پر مارتے ، اور اُن کو جہنم کے عذاب کی وعید دیتےہیں

آیت 53: اگر انسان شکر کرے اور اطاعت گزار بھی ہو تو نعمتیں برقرار رہتی ہیں اور اُن میں اضافہ بھی ہوتا ہے

آیت 55: اللہ کے نزدیک کفار جانوروں سے بھی بدتر ہیں

آیت 60: کافروں کے مقابلے میں جس حد تک ممکن ہو جنگی قوت حاصل کرنے کا حکم ہے 

آیت 61: جنگ سے متعلق ہدایات
دشمنوں سے مقابلے کے لیے مادی، عسکری اور روحانی تینوں اعتبار سے تیاری مکمل رکھیں۔
اگر کافر صلح کی طرف مائل ہوں تو صلح کرلو۔

آیت 65: نبی ﷺ کو مومنین کو قتال پر  تیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔

آیت 67: بدر کے قیدیوں کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید کی جارہی ہےکہ مال لے کے چھوڑنے کی بجائے اِ ن کو قتل کیا جائے۔

ہجرت اور نصرت کے فضائل:
آیت 74: مغفرت اور رزق کا وعدہ اُن لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے ، ہجرت کی ، جہاد کیااور جنہوں نے اُ نکی مدد کی۔

سورۂ توبہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں درج ذیل  باتیں ہیں:
اس سورۃکے دو نام ہیں سورۃ برا اور سورۃ توبہ، یہ قرآن کی واحد سورت ہے جو بسم اللہ کے بغیر شروع ہوتی ہے۔ابی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں بسم اللہ امان ہوتی ہے اس سورت میں جہاد کا حکم نازل ہوا اسی وجہ سے اس سورت میں امان کا ذکر نہیں کیا ۔
جہاد ایک فرض عبادت ہے (سورۃ بقرہ آیت 216)
اقدامی جہاد ------فرض ِ کفایہ
دفاعی جہاد-------فرضِ عین
جہاد کے معنی :آپ ﷺ نے فرمایا کافروں سے لڑنے کا نام جہاد ہے
 چاروں ائمہ اس پر متفق ہیں کہ جہاد کا مطلب ہے قتال اور اس میں مدد دینا

آیت 1-3: مشرکین سے جو معاہدے تھے ان سے برا ت کا اعلان اور قتال کی اجازت

آیت 5 & 6: اقدامی جہاد کی اجازت
حرمت والے مہینے گزرنے کے بعد مشرکوں کوجہاں پاؤ قتل کر دو، سوائے ان مشرکوں کے جن سے مسلمانوں کو ضرر نہیں پہنچا۔

آیت 8: کافروں کے وعدوں کا کوئی اعتبار نہیں اگر یہ غلبہ پا لیں تو کسی عہد کا پاس نہ کریں

آیت نمبر 11: کافر اگر ایمان لے آئیں تو ہمارے دینی بھائی ہیں

آیت 13: کیا تم کافروں کی طاقت سے ڈرتے ہو اللہ اس کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرا جائے آیت 14&15
ظالموں پر نہ افسوس کوئی بھی کرے جن کو مٹی کا پیوند رب نے کیا جو ہو مومن انہیں آج پرثہ نہ دے
مسلمانوں کے ہاتھوں کافروں پر عذاب اور  اس سے مسلمانوں کے کلیجے ٹھنڈے اور دل خوش ہونے کا ذکر 

آیت 16: جہاد سے مومن اور منافق کی پہچان ہوتی ہے مومن جہاد کرتے ہیں اور مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے دوستیاں نہیں لگاتے

آیت 18: مشرکین کی بجائے اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے و الے مسجدوں کو آباد کرتے ہیں 

آیت 19: مسجدِ حرام کی خدمت اور حاجیوں کو پانی پلانا بھی جہاد کے برابر عبادت نہیں ہے  آپﷺ سے ایک شخص نے پوچھا مجھے ایسا عمل بتائے جو جہاد کے برابر ہو آپ ﷺ نے فرمایا میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا کیا تم یہ کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لئے نکلے تو تم نماز میں کھڑے رہو ذرا دم نہ لو برابر روزہ رکھے رہو کبھی افطار نہ کرو (جب تک وہ مجاہد واپس نہ لوٹ آئے)اُس شخص نے کہا بلا کون ہے جو ایسا کر سکتاہو

آیت 20-21: ہجرت اور جہاد کرنے والوں کےلئے رب کی رحمت، جنت اور دائمی نعمتوں کی خوشخبری 

آیت 23: اگر باپ اور بھائی بھی ایمان سے زیادہ کفر کو پسند کریں تو اُ ن سے دوستی کی ممانعت،جو پھر بھی دوستی کرے وہی گناہ گار اور ظالم ہے 

آیت 24: آٹھ چیزوں کا ذکر ہے جو جہا د سے روکنے والی ہیں (باپ، بیٹے، بھائی، بیویاں، خاندان،مال،تجارت،گھر)

آیت 25: غزوحنین کا ذکر ،کثرتِ تعدادسے نہیں بلکہ اللہ کی نصرت سے جہاد ہوتا ہے

آیت 28: مشرکین ناپاک ہیں انہیں حج سے روک دیا گیا

آیت 29: اہلِ کتاب سے (یہودو نصاریٰ ) سے لڑنے کا حکم دیاگیا ہے

آیت 30: یہودیوں اور عیسائیوں کے اللہ پر بہتان کا ذکر ہے  یہودی عزیرؑ اور عیسائی  عیسی ؑ کو اللہ کو بیٹا کہتے ہیں

آیت 33: رسول ﷺ کی بعثت کا مقصد کیا ہے 
دینِ اسلام کو باقی ادیان پر غالب کردیں

آیت 35: اور جو لوگ زکوۃ نہیں دیتے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُن کے مالوں کو جہنم کی آگ میں دہکا ئے گا اور پھر اُسی سے اُن لوگوں کی پیشانیوں ، پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا

آیت 38-39: جو لوگ جہاد اور آخرت کی بجائے دنیا کی زندگی کو پسند کرتے ہیں اُ نکے لئے اللہ نے آخرت میں درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جس نے دنیا کی طلب کی اُس نے آخرت کو نقصان پہنچایا اور جس نے آخرت کی چاہت کی اس نے اپنی دنیا کو نقصان پہنچایا 

آیت 41: ہلکے ہویا بوجھل ہر حال میں اللہ کے راستے میں جہاد کے لئے نکلو
غزوہ تبوک میں مومنین اور منافقین کے رویوں کا ذکر (آیت 42 سے پارے کے اختتام تک )
منافقوں اور مسلمانوں میں امتیاز کرنے والی بنیادی چیز غزوۂ تبوک بنی، رومیوں کے ساتھ مقابلہ جو وقت کے سپر پاور تھے اور شدید گرمی اور فقر و فاقہ کے موقع پر پھل پکے ہوئے تھے، مسلمان سوائے چند کے سب چلے گئے، جبکہ منافقین نے بہانے تراشنے شروع کردیے، پارے کے آخر تک منافقین کی مذمت ہے، یہاں تک فرمادیا کہ اے پیغمبر! آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور اگر ان میں کسی کا انتقال ہوجائے تو آپ اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیے گا، پھر ان مسلمانوں کا بھی ذکر ہے جو کسی عذر کی وجہ سے اس غزوے میں نہ جاسکے۔

آیت 42: منافقین کے رویے کا ذکر جہاں دنیاوی فائدہ ملنے کی امید ہوصرف تب ہی جہاد کے لئے نکلتے ہیں 

آیت 54: نماز کے لئے سستی سے آتے ہیں اور بد دلی سے خرچ کرتے ہیں

آیت 60: اس میں آٹھ مصارفِ زکوۃ کا ذکر ہے

آیت 67&71: منافق اور مومن میں فرق
منافق بُرائی اور مومن نیکی کا حکم دیتا ہے
منافق بھلائی سے روکتا ہے اور مومن بھلائی کا حکم دیتا ہے
منافق اللہ کے لئے خرچ نہیں کرتا اور مومن اللہ کے لئے خرچ کرتا ہے، نماز پڑھتا ہے اور اللہ اوراسکے رسول کی اطاعت کرتا ہے

آیت 73: منافقین سے جہاد کا حکم

آیت79: مومنین جب اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو منافقین اُن کا مذاق اُڑاتے ہیں

آیت 80& 84: کافرین اور منافقین کے لئے بخشش کی دعا مانگنے سے منع کر دیا گیااور منافقین  کی نمازِ جنازہ پڑھنے کی ممانعت

آیت 81: غزوہ تبوک کے حوالے سے جہاد ِ اصغر اور اکبر والی روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے
غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے اپنی جانیں بچانے پر خوش تھے اُ نکو جہنم کی گرمی سے آگاہ کیا گیا ہے (کیا وہ مدینہ اور مسجدِ نبوی میں جہاد بالنفس نہیں کر رہے تھے ؟ ) اس حوالے سے حدیث ِ کعب کا مطالعہ اہم ہے۔
 *دسویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا*

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form