Summary Para 11


*گیارھواں پارہ*
 *خلاصہ*
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۔ سورۂ توبہ کا بقیہ حصہ۔
۔ سورۂ یونس مکمل۔
سورۂ توبہ کے بقیہ حصے میں اہم نکات یہ ہیں
آیت 94& 107&108: منافقین کی مذمت(جہاد سے بھاگنے پر عذر، مسجدِ ضرار کی تعمیراور مسجدِ قبا اور وہاں کے لوگوں کی فضیلت)۔
اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے کے بارے میں منافقین کے جھوٹے اعذار کی اپنے نبی کو خبر دے دی، نیز منافقین نے مسلمانوں کو تنگ کرنے کے لیے مسجد ضرار بنائی تھی، اللہ تعالیٰ نے نبی کریمؐ کو اس میں کھڑا ہونے سے منع فرمایا، نبی ﷺکے حکم سے اس مسجد کو جلا دیا گیا۔بلکہ مسجدِ قبا میں کھڑے ہونے کا حکم ہوا جس کی بنیاد تقویٰ پر ہے۔

آیت 103: غلطی ہو جائے تو صدقہ کرنا چاہیے کیونکہ صدقہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے

آیت 111:112:
مومنین کی صفات۔
جان اور مال جنت کے بدلے اللہ کو بیچ ڈالتے ہیں ، اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں ، مارتے ہیں اور مرتے ہیں۔
توبہ کرنے والے ،عبادت کرنے والے،حمد کرنے والے،روزہ رکھنے والے ،رکوع کرنے والے،سجدہ کرنے والے ،نیک کاموں کا حکم کرنے والے ،بری باتوں سے منع کرنے والے،اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
انہی سے جنت کا وعدہ ہے اور اللہ کے نزدیک یہ سب سے بڑی کامیابی ہے

آیت 113: کافروں کے لئے مغفرت کی دعا مانگنے کی ممانعت ، اگر چہ وہ قریبی رشتہ دارہی کیوں نہ ہو۔

آیت 118: غزوۂ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین مخلص صحابہ
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ
حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ
حضرت مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ
ان تینوں سے پچاس دن کا بائیکاٹ کیا گیا، پھر ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان وحی کے ذریعے کیا گیا۔

آیت 122: دین کا علم حاصل کرنے کی تلقین
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا فہم عطا کرتا ہے

آیت 126: زندگی میں چھوٹی چھوٹی تکالیف انسان کو دی جاتی ہیں شاید کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرلیں۔

آیت 128: نبی صلی اللہ وسلم کی صفات اور ایک لیڈر کی quality بھی پتا چل رہی ہے
 وہ اپنے ساتھیوں کو نقصان میں نہیں دیکھ سکتا وہ فلاح کا حریص ہو
ایمان والوں کے لیے شفیق اور رحیم ہو.

آیت 129: بہترین دعا
جس نے صبح اور شام کے وقت سات بار یہ کلمہ کہہ لیا، اللہ تعالی اس کی پریشانیوں میں اس کی کفایت فرمائے گا
حسبی اللہ لٓا اله الا ھو علیه توکلت وھو رب العرش العظیم

سورۂ یونس کے اہم نکات :
 یہ سورت توحید ، رسالت ، آخرت کے دلائل سے بھرپور ہے ۔

قرآن کی عظمت
آیت 1: یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیات ہیں
آیت 38: قرآن کا چیلنج ۔۔قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ
آیت 57: ابنِ قیم کہتے ہیں دلو ں اور جسموں کی کوئی بیماری ایسی نہیں جس کا علاج اور رہنمائی کا ذریعہ قرآن میں موجود نہ ہو.

توحید
آیت 3: اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمیں اور آسمان کو پیدا کیا
آیت 5 & 6: سورج ،چاند ، رات اور دن میں عقل والوں کے لئے نشانیاں
آیت 12: انسان مصیبت میں اللہ کو یا د کرتا ہے اور مصیبت جاتے ہی اللہ کو بھول جاتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اللہ کو خوشحالی میں یاد رکھو اللہ تمہیں تکلیف کے وقت یاد کرے گا.
آیت 31: توحید (رازق ، مالک ، خالق اور ہر قسم کی تدبیر کرنے والا اللہ ہی ہے)

قیامت
آیت 4: روز قیامت سب کو جمع کیا جائے گا
آیت 11: کفار کو اس کا یقین نہیں
آیت 26 (وزیادہ): جنتیوں کے لئے سب سے بڑا انعام اللہ کا دیدار ہو گا
آیت 35& 36: (وہی اللہ ہے )جس نے پہلی دفعہ پیدا کیا وہی دوسری دفعہ پیدا کرنے پر قادر ہے ، آخرت کا انکار کرنے والوں کے پاس کوئی دلیل نہیں محض اپنے گمان پر انکار کرتے ہیں
آیت 62: آخرت میں اللہ والوں اور  اللہ کے لئے محبت کرنے والوں کے لئے کوئی خوف اور پریشانی نہیں ہوگی
آیت 64: ابو ذر کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا ایک آدمی اللہ کے لئے کوئی کام کرتا ہے لیکن لوگ اس سے اس کام کے لئے محبت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ مومن کو جلد ملنے والی نعمت ہے 

رسالت
آیت 2: ہر قوم کو یہ گلہ رہا کہ ہماری طرف انسانوں میں سے نبی کیوں بھیجا گیا
آیت 71-74: حضرت نوح ؑ کا قصہ
حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو دعوت دی، انھوں نے بات نہیں مانی، سوائے کچھ لوگوں کے، اللہ تعالیٰ نے ماننے والوں کو نوح ؑ کی کشتی میں محفوظ رکھا اور باقی سب کو جوکہ نافرمان تھے پانی میں غرق کردیا

آیت 75-93: حضرت موسیٰ اور ہارون ؑکا قصہ
حضرت موسیٰ اور ہارون ؑ کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف بھیجا، فرعون اور اس کے سرداروں نے بات نہ مانی، بلکہ فرعون نے خدائی کا دعوی کیا، حضرت موسیٰ ؑ کو جادوگر بتلایا اور ان کے مقابلے میں اپنے جادوگروں کو لے آیا، جادوگر حضرت موسیٰ ؑپر ایمان لے آئے، پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ہارون ؑکو حکم دیا کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر اور مسجدیں بنائیں ، فرعون اور اس کے ماننے والے بنی اسرائیل کا پیچھا کرتے ہوئے سمندر میں غرق ہوگئے، بنی اسرائیل کے لیے اللہ نے سمندر میں راستے بنادیے

آیت 98: حضرت یونس ؑ
انھی کے نام پر اس سورت کا نام ”سورۂ یونس“ رکھا گیا ہے۔ حضرت یونس ؑکا نام قرآن میں چار جگہ(سورۂ نساء ، انعام ، یونس اور صافات میں) صراحۃً یونس آیا ہے اور دو جگہ(سورۂ یونس اور سورۂ قلم میں) اللہ نے ان کا ذکر مچھلی والا (صاحب الحوت / ذا النون) کی صفت کے ساتھ فرمایا ہے۔
حضرت یونس ؑ کے واقعے کے دو رخ ہیں:
ایک ان کا مچھلی کے پیٹ میں جانا، اس کا تفصیلی ذکر سورۂ صافات میں ہے۔
دوسرا ان کی قوم کا ان کی غیر موجودگی میں توبہ استغفار کرنا، سورۂ یونس میں اس طرف اشارہ ہے۔یہ واحد قوم ہے جس پر عذاب کا فیصلہ ہو چکنے کے بعد استغفار کی وجہ سے ٹال دیا گیا.
 *گیارھویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا۔*

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form