Maooz tain k fazail


*معوذتین کے فضائل پر احادیث*

ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
آج کی رات مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں ، جن کی مثل میں نے کبھی نہیں دیکھی یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں ۔
﴿ صحیح مسلم ،کتاب صلوٰة المسافرین، باب فضل قراءة المعو ذتین ، والترمذی﴾
ابو حابس جہنی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےے فرمایا۔ اے ابو حابس کیا میں تمہیں سب سے بہترین تعویذ نہ بتاوں جس کے ذریعے سے پناہ طلب کرنے والے پناہ مانگتے ہیں، انہوں نے عرض کیا ہاں ضرور بتلایئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سورتوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ دونوں معوذ تان ہیں ۔
﴿صحیح النسائی ، للالبانی ، نمبر 5020 ﴾
نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں اور جنوں کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے ، جب کہ دونوں سورتیں نازل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پڑھنے کو معمول بنا لیا اور باقی دوسری چیزیں چھوڑ دیں۔
﴿ صحیح الترمذی للا لبانی نمبر 2150 ﴾
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف ہوتی تو معوذتین پڑھ کر اپنے جسم پر پھونک لیتے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہو گئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرتی۔
﴿ بخاری ، فضا ئل القرآن، باب المعوذات ، مسلم ،کتاب السلام ، باب رقیة المریض بالمعوذات﴾
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا ، تو جبرائیل علیہ اسلام یہی دو سورتیں لے کر حا ضر ہوئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا ہے، اور یہ جادو فلاں کنویں میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھیج کر اسے منگوایا، ﴿ یہ ایک کنگھی کے دندانوں اور بالوں کے ساتھ ایک تانت کے اندر گیارہ گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں ﴾
جبرائیل علیہ اسلام کے حکم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھتے جاتے اور گرہ کھلتی جاتی اور سوئی نکلتی جاتی۔ خاتمے تک پہنچتے پہنچتے ساری گرہیں بھی کھل گئیں اور سوئیاں بھی نکل گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح صحیح ہو گئے جیسے کوئی شخص جکڑ بندی سے آزاد ہو جائے۔
﴿ صحیح بخاری ، مع فتح الباری ، کتاب الطب ، باب السحر ۔ مسلم ، کتاب السلام ، باب السحر۔ والسنن﴾
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول بھی تھا کہ رات کو سوتے وقت سورہ اخلاص اور معوذتین پڑھ کر اپنی ہتھیلیوں پر پھونکتے اور پھر انہیں پورے جسم پر ملتے، پہلے سر، چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے، اس کے بعد جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ پہنچتے ۔ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے۔​
﴿ صحیح بخاری ، کتاب فضائل القرآن ، باب فضل المعوذات﴾

ترمذی ، نسائی ، اور ابوداؤد میں سیدنا عبداللہ بن حبیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہ ہم ایک اندھیری رات میں جب کہ بارش ہو رہی تھی اس لئے اپنے گھروں سے نکلے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کریں ،
ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں پہنچے
تو ارشاد ہوا ، کہو (کیا کام ہے ) میں چپ رہا ۔
آٓپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہو؟ میں پھر بھی چپ رہا تو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں ارشاد فرمایا :
صبح و شام قل ہو اللہ احد اور معوذ تین پڑھا کرو، تم ہر ایک قسم کے شر سے محفوظ رہوگے
ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے"[10]

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form