Summary Para 26


 *چھبیسواں پارہ*
*خلاصہ۔*
 *اس پارے میں کل چھ حصے ہیں:*
 *سورۂ الاحقاف*(مکمل)
 *سورۂ محمد*(مکمل)
 *سورۂ فتح*( مکمل)
 *سورۂ الحجرات*(مکمل)
 *سورۂ ق*(مکمل)
*سورۂ الزار یات*( ابتدائی حصہ)

 *_ سورۂ الاحقاف میں کئ باتیں مذکور ہیں:*

والدین کے ساتھ حسن سلوک کا بیان
 حمل کی اقل مدت کا بیان کہ وہ چھ ماہ ہے۔ قوم عاد کی شرارت اور ان پر آنے والے عذاب کا تذکرہ ہے کہ ان پر ایسی ہوا چلی کہ اس نے سب کو تہ و تباہ کر دیا۔
 جنون کے ایمان لانے اور اپنی قوم میں داعی کی حیثیت سے کام کرنے کا بیان ہے۔

 *_سورہ محمد میں بہت سی باتیں ہیں:*
 جنت کی مثال بیان کی گئی ہے کہ اس میں ایسی نہر ہے کہ جس کا پانی گدلا نہیں ہوتا دودھ کی نہر کہ جس کا ذائقہ نہیں بدلتا ،شراب کی نہر، خالص شہد کی نہر اور ہر قسم کے پھل وغیرہ۔ آدمی جب مال پا جاتا ہے یا سرداری اور منصب کا مالک ہو جاتا ہے تو رشتہ کو نہیں نبھا تا ہے۔
 اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اعمال کی بردباری کا ذریعہ ہے۔

 *_ سورۂ فتح کی بعض باتیں یہ ہیں:*
 اس سورت میں فتح مبین سے مراد یا تو صلح حدیبیہ ہے یا فتح مکہ مکرمہ جیسا کہ مفسرین کے یہاں اختلاف ہے۔
 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی تعظیم و توقیر باور مدد کرنے کا بیان ہے۔
 صلح حدیبیہ کے بعض حالات کا بیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کا تذکرہ کہ آپ مسجد حرام کی زیارت کریں گے۔
 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بعض عمدہ صفات کا بیان

 *_ سورۂ الحجرات میں کئ باتیں ہیں:*

نبوت و رسالت کا بیان
 دو جماعتوں کے درمیان اختلاف کی صورت میں اصلاح کی کوشش اور بغاوت کرنے والی جماعت کے مد مقابل کھڑے ہونا یہاں تک کہ وہ راہ راست پر آ جائے۔
 سماج کو تباہ کر نے والی بعض صفات کہ ان سے بچنا چاہیے جیسے غیبت، چغلی، بدگمانی تمسخر یہ برے القاب سے خطاب وغیرہ۔

 *_ سورۂ ق کی چند باتیں یہ ہیں:*

قیامت کا بیان کہ مرنے کے بعد دو بارہ زندہ کیا جائے گا۔
قوم نوح،اصحاب الرس، ثمود، عاد، فرعون اور اخوان لوط کی تکذیب کا بیان ہے۔
 جہنم کی کشادگی اور جنت کی قربت کا تذکرہ ہے۔
آخرت کے میدان میں کس طرح لائے جائیں گے اور مشرکین کو کیسے عذاب شدید میں ڈالا جائے گا اس کا بیان ہے۔


 *_ سورۂ زاریات کے ابتدائی حصے کی باتیں یہ ہیں:*

حساب وکتاب​ ہو کر رہیگا اس سے مفر نہیں ہے۔ متقیوں کی بعض صفات کا بیان کہ وہ رات میں بہت کم سوتے ہیں سحر میں استغفار کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سائل اور محروم کا حق فراموش نہیں کرتے۔
 حضرت ابرہیم علیہ السلام کے پاس مہمانوں کے آ نے اور ان کی ضیافت کا تذکرہ ہے۔

*چھبیسویں پارے کا خلاصہ مکمل ہوا*

sairakhushi

I am a software developer and want to be a multi-language developer.

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form