رمضان۔۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
*قرآن مجید* اور *ہم*
بے حد ضروری ہے کہ ہم *"اپنی بُک اپنے لیے"* پڑھیں اور سمجھیں۔
تاکہ
ہم اپنا دُرست استعمال جٙان سکیں
*پارہ* 25
*فَمَآ أُوتِيتُم مِّن شَيۡءٍ فَمَتَٰعُ ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۚ وَمَا عِندَ ٱللَّهِ خَيۡرٌ وَأَبۡقَىٰ لِلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَلَىٰ رَبِّهِمۡ يَتَوَكَّلُونَ*
*سورة الشورٰی: 36*
تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔
دنیا کی زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ وہ *عارضی* ہے اور اس عارضی زندگی میں *انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے*۔۔۔۔ بظاہر وہ کتنا ہی زیادہ اور کتنا ہی بڑا ہے، خواہ قارو کا خزانہ کیوں نہ ہو۔۔۔۔ *بہت ہی حقیر ہے اور تھوڑا ہے*
خصوصاً آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حقیقت *جیسے* سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ
جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے (اچھے کاموں پر جزا)
ہمیشہ باقی رہنے والی۔۔۔ Quality & Quality کے لحاظ سے بہتر ہے
*وہ کیا ہے۔۔۔؟؟ جو کہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔۔۔*
*اَلۡمَالُ وَ الۡبَـنُوۡنَ زِيۡنَةُ الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا ۚ وَالۡبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيۡرٌ عِنۡدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيۡرٌ اَمَلًا ۞* *[سورۃ الكهف: 46]*
"یہ مال اور بیٹے تو محض دنیا کی زندگی کی زینت ہیں ورنہ آپ کے پروردگار کے ہاں *باقی رہنے والی نیکیاں* ہی ثواب کے لحاظ سے بھی بہتر ہیں اور اچھی امیدیں لگانے کے لحاظ سے بھی"
*تو پتا چلا کہ*
انسان کی نیکیاں بھی
اور ان کی ان نیکیوں پر ملنے والا اجر بھی
_*ہمیشہ باقی رہنے والا ہے*_
*شرط کیا ہے۔۔۔۔؟؟*
نیک اعمال کے ساتھ ایمان بھی ضروری ہے ۔۔۔ اگر ایمان نہیں ہوگا تو نیکی کے بڑے بڑے کام کچھ بھی فائدہ نہ دیں گے
*اور اگر ایمان کے ساتھ ایک خوبی اور بڑھ جائے ۔۔۔۔۔؟؟*
*[ توکل ]*
وہ لوگ جو اپنے رب پر توکل۔۔۔۔ بھروسہ کرتے ہیں
*کیونکہ*
جب تک انسان اللہ پر اعتماد نہیں کرتا.... اپنے معاملات اللہ کے سپرد نہیں کرتا تو اس کے لیے نیکی پر استقامت اختیار کرنا مشکل ہوتا ہے
*یاد رکھیں*
*آخرت کے فائدے کے لئے بہت دفعہ دنیا قربان کرنی پڑتی ہے*
بعد میں ملنے والی(آخرت) کے مقابلے میں جلد ملنے والی (دنیا) کے فائدے سے انسان تب ہی کنارہ کشی اختیار کر سکتا ہے جب اس کا اپنے رب پر بھروسہ ہو
*کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان کو اللہ کی اطاعت سے کیا چیز روکتی ہے۔۔۔۔؟؟*
دنیاکی محبت۔۔۔ اس کا مفاد۔۔۔۔کسی چیز کے چھن جانے کا ڈر یا کسی چیز کا خوف
*توکل آ جائے تو* انسان دنیا سے بے نیاز ہو جاتا ہے اور جب بے نیاز ہو جائے تو انسان میں بے خوفی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور پھر یہی بے خوفی انسان جرات پیدا کر سکتی ہے اور بڑے بڑے ہمت والے کام کر سکتا ہے اور خود کو گناہوں سے بچا سکتا ہے
*یاد رکھیں*
جب تک اللہ نہ چاہے کوئی چیز/ انسان فائدہ نہیں پہنچا سکتا اور جب تک وہ نہ چاہے کوئی نقصان نہیں دے سکتا
*ان شاءاللہ تعالیٰ*
*کرنے کے کام*
اللہ تعالیٰ کے بارے آپ العقیدہ درست کیجئے۔۔۔ صرف اسی پر بھروسہ کیجیئے۔۔۔
اپنے سب معاملات اسی کے حوالے کرتے ہوئے اسے سے دعا کیجئے
*ان شاءاللہ تعالیٰ*
رمضان المبارک میں راستے آسان کر دیے جاتے ہیں ... تو دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دیں جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے
*ان شاءاللہ تعالیٰ*
رمضان۔۔۔ *ہم*۔۔۔۔قرآن
Tags
Tafseer Quran
