.........
| *﷽* |
« *سالی آدھی گھــر والی* »
معاشرے میں ایک جملہ مشہور ہو گیا ھے:
سالی (بیوی کی بہن) تو آدھی گھر والی ہوتی ھے
*یہ ایک غلط سوچ ھے*
*اَصل:-*
اس جملہ کی شروعات برِصغیر سے ہوئی مگر اس جملہ کے پیچھے ایک عقیدہ چھپا ھے جس کا تعلق ہندو دھرم سے ھے۔ ملاحظہ ہو:
* عقیدہ اول:*
ہندوؤں کے قدیم عقیدے کے مطابق ایک عورت پر ایک سے زیادہ مردوں کا اختیار ہو سکتا ھے اور سالی سے متعلق یہ عقیدہ رہا ھے کہ جب کسی عورت کی شادی کسی مرد سے ہو جائے تو اس عورت کی بہن (سالی) پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جس میں اپنی بہن کی عدم موجودگی میں اس کے خاوند کے بنیادی حقوق ادا کرنا ہوتا ھے۔ ان ذمہ داریوں کی بنا پر اسے "آدھی گھر والی" کہنا شروع کر دیا گیا۔
* عقیدہ دوم:*
مگر اس کے ساتھ ہندو دھرم میں سالی کا ایک الگ مقام ھے، جس بنا پر اگر ایک مرد کی بیوی راضی ہو تو اس کی بہن سے اس کے خاوند کے گہرے تعلقات قائم کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ھے۔
ہندو دھرم اس طرح کے بہت سے واقعات سے بھرا ہوا ھے۔ حتیٰ کہ کچھ کتب میں تو ہندو دیوتاؤں کے کچھ ایسے واقعات بھی درج ہیں جس میں سالی کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنا بھی درج ھے۔ کچھ کتب کے مطابق سالی کے ساتھ غیر مناسب تعلقات بھی قائم کیے گئے ہیں جسے شوہر کا حق بتلایا گیا ھے اور چونکہ ہندو دھرم کی تاریخ میں اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا اسی بنا پر سالی کو *آدھی گھر والی* کا لقب بھی دیا گیا۔
* ملاحظہ ہوں:-*
(رودھر سمہیتا ۲، سَتی کھنڈ ۲، باب ۱۹)
(ادھائیا ۱۰۰ - از: وانا پروا - ماہابھارتا)
(رِگ وِدا ۱۰ - ۸۵ - ۳۷)
(منڈال - ۱۰)
*اِضافی:-*
اب رہی بات اسلام میں بہنِ نسبتی (سالی) کی اس کے بہنوئی کے لیے کیا حیثیت ھے، تو خوب سمجھ لیجئے "کوئی حیثیت نہیں"۔ وہ آپ کی نامحرم ھے اور اس سے نظریں نیچی رکھنا آپ پر اور اس کا آپ کے سامنے چہرے سمیت پردہ کرنا "فرض" ھے۔ اس کے بعد اب اس بات کی ذرہ بھی جگہ نہیں بنتی کہ بہنِ نسبتی (سالی) آدھی گھر والی ھے۔
* حاصلِ کلام:-*
ہندوؤں سے ہم لوگوں میں بہت سی غلط سوچیں آ چکی ہیں، جن میں "سالی آدھی گھر والی" جیسا فقرہ اور اس سے جڑا ہندوانہ عقیدہ بھی شامل ھے۔ اگر یہ حقیقت پہلے معلوم نہیں تھی اور اب علم میں آئی ھے تو اس فقرے کو دوہرانا یہیں چھوڑ دیں اور اگلی نسلوں تک غلط سوچوں کو پھیلانے کا ذریعہ مت بنیں۔ نامحرموں کو محرم کا درجہ مت دیں اور ان سے وہی دوری اختیار کریں جتنی دوری کا حکم اللّٰه ﷻ نے دیا ھے، تاکہ کل کو آپ بھی کسی گناہ میں مبتلا ہونے سے بچ جائیں اور آپ کی *بہن، بیٹی* بھی۔
Tags
Issues
